جمال الدین کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی سیفران کا اجلاس

الیکشن کمیشن نے تمام ترقیاتی سکیموں اور نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کردی، سیکرٹری پلاننگ فاٹا الیکشن کمیشن اپنے اختیارات میں تجاوز کررہا ہے ، کمیٹی ارکان کا اظہار برہمی رواں مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ24ارب روپے ر کھے گئیجس میں سے اب تک12ارب روپے مختلف ترقیاتی سکیموں کی مد میں ریلیز ہوچکے ،منظور سکیموں کے لئی25فیصد ادائیگیاں کردی گئی ،کل1103 سکیمیں رکھی گئی تھیں جس میں سی900 کے قریب منظور ہوچکی ہیں، حکام کی بریفنگ

منگل اپریل 19:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس منگل کے روز محمد جمال الدین کی سربراہی میں منعقد ہوا،اجلاس میں فاٹا حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ24ارب روپے رکھاگیا تھا جس میں سے اب تک12ارب روپے مختلف ترقیاتی سکیموں کی مد میں ریلیز ہوچکے ہیں،منظور سکیموں کے لئی25فیصد ادائیگیاں کردی گئی ہیں،کل1103 سکیمیں رکھی گئی تھیں جس میں سی900 کے قریب منظور ہوچکی ہیں۔

سیکرٹری پلاننگ فاٹا نے مزید بتایا کہ یکم اپریل سے الیکشن کمیشن نے تمام ترقیاتی سکیموں اور نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔۔الیکشن کمیشن کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے بعد اب کسی بھی نئی سکیم کی منظوری نہیں دی جاسکتی۔

(جاری ہے)

فاٹا حکام نے بتایا کہ جاری ترقیاتی منظوریوں کے فنڈز بروقت نہ ریلیز ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ فنانس ڈویژن ہے۔

جس پر ممبران کمیٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن جلد بازی میں اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے،یہ کبھی نہیں ہوا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے سے قبل ہی اسی طرح کی پابندیاں عائد کردی جائیں۔قیصر جمال نے کہا کہ ہر ممبر اسمبلی کا حق ہے کہ اسے جتنے وقت کے لئے عوام نے منتخب کیا ہے اتنا وقت دیا جائے۔انہوںنے کہا کہ ہم اس پر عدالت سے رجوع کر چکے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو ان کا حق ملے گا۔

وزیرمملکت غالب خان نے کہا کہ اس سے قبل فنڈز میں رکاوٹ کے حاولے سے کبھی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی،ہم وزیر فنانس سے اس معاملے پر بات کریں گے،،فاٹا حقوق کے لئے ہر سطح پر لڑیں گے۔قیصر جمال نے کہا کہ فنانس ڈویژن کی ترجیحات میں فاٹا شامل نہیں ہے کیونکہ فنانس کی جانب سے مسلسل اسے نظر انداز کیا جارہا ہے۔وزیر مملکت سیفران غالب خان کا کہنا تھا کہ آپ بھی ہمارا ساتھ دیں،،فاٹا کے لئے آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہیں،جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسی کمیٹی نے ہمیشہ فاٹا کے لئے ہی کام کیا ہے۔

اگلے اجلاس میں آپ کمیٹی کے سامنے تفصیلات پیش کریں۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی نعیمہ کشور خان نے کہا کہ بتایا جائے کہ میڈیا میں نصاب کی تبدیلی کے حوالے سے جو خبریں چل رہی تھیں اور وزیر اعظم ہاؤس،،وزارت داخلہ کی جانب سے خط بھی لکھا گیا اس معاملے کی تحقیقات ہوئیں۔جس پر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے جو خبریں چل رہی تھیں اس پر ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے مکمل تحقیقات کی ہیں ،ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے،جس پر کمیٹی نے سفارش کی کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو خط لکھا جائے،اس سازش کے پیچھے جو بھی ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیفران کمیٹی کی جانب سی32اجلاسوں میں جتنی بھی سفارشات کی گئیں اور کتنی سفارشات پر عملدرآمد ہوا اس کی مکمل تفصیلات پر عملدرآمد ہوا اس کی مکمل تفصیلات کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائیں۔