کماد کے کاشتکار وں کو پوٹاش والی کھاد کا استعمال یقینی بنا نے کی ہدائت

بدھ اپریل 15:04

فیصل آباد۔25 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ پاکستان میں فی ایکڑ کماد سے اوسطاً 46من جبکہ اس کے برعکس مصر میں 127اور آسٹریلیا میں 138من چینی حاصل کی جاتی ہے لہٰذا اگر ہمارے کاشتکار بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں تو وہ بھی کماد کی پیداوار کو بہتر بناتے ہوئے چینی کی زیادہ مقدار حاصل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

انہوںنے بتا یا کہ ماہرین زراعت کے مشورہ سے پوٹاش والی کھاد کااستعمال انتہائی مفید اثرات کا حامل ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف فصل کے تنے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ فصل کو گرنے سے بچانے سمیت بہتر قوت مدافعت کے ساتھ ساتھ فصل کو گرمی وسردی کے منفی اثرات سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوںنے بتا یا کہ پوٹاش والی کھاد کماد کی فصل میں چینی کی ریکوری میں اضافہ کا موجب بنتی ہے جس سے گنے میں مٹھاس میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے زیادہ چینی اور گڑ کی پیداوار بھی حاصل ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں شوگر ریکوری میں کمی کی اہم ترین وجہ کھادوں کا غیر متوازن استعمال اور پوٹاش والی کھادوں کا استعمال بالکل نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کماد کے کاشتکار ماہرین زراعت کے مشورہ سے پوٹاش والی کھاد کا استعمال یقینی بنائیں اور کماد کی فصل میں یہ کھاد 2سے 3اقساط میں ڈالی جائے۔