شامی عوام کیلئے سعودی عرب 100ملین ڈالر امداد دیگا، الجبیر

جمعرات اپریل 11:41

ریاض ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اعلان کیا ہے کہ شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات شامی بھائیوں کو 100ملین ڈالر پیش کرے گا۔ برلن میں شام کے مستقبل پر ہونے والی کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ الجبیر نے واضح کیا کہ سعودی عرب شامی علاقوں اور پڑوسی ملکوں میں سکونت پذیر شامی بھائیوں کو اب تک ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ انسانی امداد فراہم کرچکا ہے۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ ترکی،، اردن اور لبنان میں لاکھوں شامی پناہ گزینوں کو انواع و اقسام کا امدادی سامان میزبان ممالک کے ساتھ یکجہتی پیدا کرکے مہیا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس مشرقی الغوطہ کے شہر دوما میں ہیبتناک جرم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد منعقد ہورہی ہے۔

(جاری ہے)

پوری دنیا کے سامنے دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ اتحاد قائم کرنے والا نظام حکومت ہے اور وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ جرائم کے ارتکاب اور بھیانک مظالم کے ذریعے اسے فتح حاصل ہوجائیگی۔

انہوں نے زور دیکر کہا کہ شامی بحران کا واحد حل پرامن سیاسی تصفیہ ہے۔ سعودی عرب بحران کے آغاز سے ہی پرامن حل کے لئے کوشاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے جنیوا ون اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 پر عمل درآمد کا پہلے بھی مطالبہ کیا اور آج بھی کررہا ہے۔ سعودی عرب اپنے اس موقف پر پوری قوت سے قائم ہے کہ شامی تعمیر نو کا عمل ٹھوس، سنجیدہ، سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی انجام پا سکتا ہے۔

اس کے بغیر بات نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب نے شامی اپوزیشن کو صف بستہ کرنے اور انہیں بیک آواز اپنا موقف پیش کرنے پر آمادہ کرنے کی بھی سر توڑ کوشش کی۔ اس مقصد کے لئے 2015اور 2017ء میں 2کانفرنسیں منعقد کیں۔ الجبیر نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے بین الاقوامی فیصلوں اور شام کے ایک، ایک حصے میں مستحق افراد تک انسانی امداد کی ترسیل کے معاہدے نافذ ہوںگے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ سعودی عرب شام میں بحران کی آگ بھڑکنے کے بعد سے لے کر اب تک 24 لاکھ شامیوں کو پناہ دے چکا ہے۔ ان کے ساتھ سعودی شہریوں جیسا معاملہ کررہا ہے۔