کسٹمز انٹیلی جنس کی تاریخ میں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑنے والے ڈائریکٹر جنرل شوکت علی کیخلاف نیب کو ناقابل تردید شواہد فراہم کردئیے گئے

وائٹ کالر کرائم کے ماہر مافیا نے اربوں روپے کے قیمتی موبائل بھی نیلام کرکے قومی دولت جیبوں میں ڈال لی،قیمتی سامان سے بھرا ہوا گودام، ایرانی پلاسٹک سے لدے ہوئے 22 ٹرک ڈی جی کسٹمز اور اسکے ساتھی ڈکار گئے نیب نے تمام دستاویزات کو حتمی شکل دیکر انکوائری کیلئے تیار کرلیا، آئندہ ہونیوالی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں منظوری کا امکان

جمعرات اپریل 21:13

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) کسٹمز انٹیلی جنس کی تاریخ میں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑنے والے ڈائریکٹر جنرل شوکت علی کیخلاف نیب کو ناقابل تردید شواہد فراہم کردئیے گئے۔پکڑی گئی نان کسٹمز گاڑیوں سے لیکر ڈیزل چوری کے تحریری ثبوت نیب حکام کے حوالے کئے جاچکے ہیں۔وائٹ کالر کرائم کے ماہر مافیا نے اربوں روپے کے قیمتی موبائل بھی نیلام کرکے قومی دولت جیبوں میں ڈال لی۔

قیمتی سامان سے بھرا ہوا گودام اور ایرانی پلاسٹک سے لدے ہوئے 22 ٹرک ڈی جی کسٹمز اور اسکے ساتھی ڈکار گئے۔نیب نے تمام دستاویزات کو حتمی شکل دیکر انکوائری کیلئے تیار کرلیا۔نیب کی آئندہ ہونیوالی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں منظوری کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی کسٹمز شوکت علی اور اس کے گینگ کے دیگر ممبران کیخلاف تقریباً دوسو صفحات پر مشتمل ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ ایک فائل نیب حکام کو فراہم کردی گئی ہے۔

(جاری ہے)

ثبوتوں سے بھری ہوئی یہ فائل کسٹمز انٹیلی جنس کے ایک اہلکار عامر شبیر کی طرف سے نیب کو فراہم کی گئی ہے۔مصدقہ ذرائع کے مطابق نیب کو فراہم کی گئی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایف سی حکام نی3000 ہزار لیٹر ڈیزل جو کہ سمگل کرکے لایا گیا تھا پکڑا تھا لیکن ڈی جی کسٹمز کے کارندوں نے اس میں سے ایک لاکھ 33ہزار لیٹر ڈیزل کو غائب کرکے باقی ڈیزل سرکاری کھاتے میں درج کردیا لیکن ایف سی حکام نے دوبارہ پڑتال کروائی تو ایک لاکھ33ہزار لیٹر ڈیزل کی چوری پکڑی گئی۔

اس واردات میں ڈائریکٹر کوئٹہ عرفان،ڈپٹی ڈائریکٹر سعید کانجو اور انسپکٹر نصراللہ قصور وار پائے گئے۔۔ایف سی کی نشاندہی پر ڈی جی سے ان افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی لیکن ڈی جی نے کسی ایک افسر سے نہ انکوائری ہونے دی اور نہ ہی ان پر کوئی دباؤ آنے دیا۔نیب کو فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق کسٹمز انٹیلی جنس گودام لاہور میں اربوں روپے کے قیمتی موبائل رکھے گئے تھے۔

ڈی جی کی آشیرباد سے ان موبائلوں کی نیلامی کا ایک جعلی ڈرامہ رچایا گیا اور اربوں روپے کی بندربانٹ کرلی گئی۔محکمے کے اندر سے جب ان موبائلوں کی نیلامی پر سوال اٹھا تو ڈی جی کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ موبائل مسلح افواج کے ایک شعبہ سی ایس ٹی کو فروخت کردئیے گئے ہیں لیکن سی ایس ٹی نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے سارا بھانڈا پھوڑ دیا کہ انہوں نے ایسی کسی قسم کی نیلامی میں حصہ ہی نہیں لیا ۔

کسٹمز انٹیلی جنس گودام لاہور میں جعلی نیلامی کی80 کے لگ بھگ وارداتیں کی گئیں۔ڈی جی کی ہدایت پر معاملے کی ایف آئی اے کے ذریعے انکوائری سے پہلے ہی اپنے ایک انسپکٹر حمید اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا گیا اور ساتھ ہی ڈی جی اور انکے ساتھیوں کی طرف سے حمید اللہ کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان بھی کردیاگیا۔نیب کو دی گئی دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر عثمان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر امان اللہ سرتوڑ کوشش کے باوجود ڈی جی کسٹمز اور دیگر ملوث اہلکاروں سے نہ تو ریکارڈ لے سکے اور نہ ہی کسی کو شامل تفتیش کرسکے۔

نیب کے پاس دستاویزی ثبوتوں میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایف سی کے میجر احسن نی22ٹرک ایرانی پلاسٹک سے لدے ہوئے پکڑے تھے جو سمگل شدہ تھے،یہ ٹرک سامان سمیت پکڑ کر کسٹمز حکام کے حوالے کئے گئے اور ڈائریکٹر انعام اللہ نے انکے سامان کی لسٹ تیار کی تھی لیکن پھر انہیں ایماندارانہ رویہ اختیار کرنے پر وہاں سے فارغ کردیاگیا اور22ٹرکوں پر لگنے والی62 لاکھ روپے کی ڈیوٹی کو نصف کرکے آدھا سامان فروخت کردیاگیا اور رقم گینگ نے جیب میں ڈال لی۔

اسی طرح ایف سی نے سمگل شدہ قیمتی سامان سے بھرے ہوئے ایک گودام کو تحویل میں لیکر کسٹمز کے اہلکاروں کے حوالے کیا اور پھر حسب معمول اس گودام میں پڑے ہوئے سارے سامان کو کسٹمز حکام نے فروخت کرکے مال اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرلیا۔ذرائع کے مطابق نیب کے ڈی جی راولپنڈی عرفان منگی نے ان تمام دستاویزات کی جانچ پڑتال مکمل کرلی ہے اور توقع ہے کہ نیب کی آئندہ ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں چیئرمین نیب سے باضابطہ انکوائری کی اجازت لی جائی گی۔

نیب ذرائع نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ اس حوالے سے جو معاملات کوئٹہ سے متعلقہ تھے ان پر تحقیقات میں کافی پیش رفت ہوچکی ہے جبکہ لاہور اور خیبرپختونخواہ میں جو اختیارات سے تجاوز ہوا اس پر انکوائری شروع کرنے کیلئے ابھی غور کیا جارہا ہی۔ 04-18/--127