بلوچستان کی جیلوں میں ڈیوٹی سے طویل عرصہ سے غیر حاضر ملازمین کیخلاف تحقیقات کا اغاز کردیا گیا

جمعہ اپریل 16:36

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) بلوچستان کی جیلوں میں ڈیوٹی سے طویل عرصہ سے غیر حاضر ملازمین کے خلاف تحقیقات کا اغاز کردیا گیا ،کچھ غیر حاضر ملازمین کے جرائم پیشہ افراد سے روابط کا بھی انکشاف ،طویل عرصے سے غیر حاضر ایک افیسر تنخواہ جیل کی اورسیر دوبئی کی کررہا ہے ،جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے پانچ اسسٹنٹ سپرٹنڈنٹس کی انکواری دو سال سے زیر التوا ہے، بلوچستان کی گیارہ جیلوں میں پابند سلال 2250قیدیوں کی حفاظت کیلئے سترہ سو اہلکار اور آفیسران پر عملہ تعینات ہے ، مگر اس عملے میں کچھ اہلکار ایسے بھی طویل عرصہ سے غیر حاضر ہیں ،جو غیر حاضر ی کے باوجود تنخواہ محکمہ جیل خانہ جات سے وصول کررہے ہیں ،اب محکمہ جیل نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں ،محکمے کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق ان تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کچھ غیر حاضر ملازمین کے جرائم پیشہ افراد سے بھی روابط ہیں ،اس محکمے کا ایک آفیسر ایسا ہے جو تنخواہ تو اس محکمے سے وصول کررہا ہے مگر چکر وہ دوبئی کے لگارہا ہے ، محکمے میں جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے پانچ اسسٹنٹ سپرٹنڈنٹس کے خلاف بھی انکواری تقریبا دو سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکی ہے ،یہاں یہ دلچسپ بات بھی سامنے آئی کہ محکمہ جیل کے چھ وارڈان تنخواہ تو اپنے محکمے سے لے رہے تھے اور قیدیوں کی حفاظت کے بجائے نصیر آباد کی اہم شخصیت کے ذاتی محافظ کے فرائض انجام دے رہے تھے جنہیں اب محکمے میں واپس بلالیا گیا ہے ، محکمہ جیل خانہ جات کے آئی جی شجاع الدین کاسی نے محکمہ اٹیچمنٹ پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ محکمہ کے وارڈان کی تربیت کیلئے مچھ جیل میں تربیت کا مرکز قائم کردیا ہے ۔

متعلقہ عنوان :