چٹانوں پر کندہ کاری،

سعودیہ میں ہزاروں سال پرانے انسانی تہذیب کے نقوش موجود کہ پتھر کے قدیم وسطی دور میں سب سے زیادہ انسانی ھجرت کا پتا جزیرہ العرب سے ملتا ہے،مورخین

ہفتہ اپریل 11:52

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سعودی عرب کی سرزمین تاریخی اعتبار سے ہزاروں سال پرانی انسانی تہذیبوں کی امین ہے۔ مملکت کے 70 فی صد سے زاید رقبے پر انسانی تہذیبوں کے ان مٹ نقوش اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہزاروں برس قبل بھی یہ سرزمین انسانی تہذیب وتمدن کا مرکز تھی۔عرب ٹی وی نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کی قبل از تاریخ تاریخی یادگاروں پر روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مختلف مقامات پر موجود چٹانوں پر کی گئی کندہ کاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ گئے زمانوں میں تیار کردہ یہ فن پارے اس دور میں بنائے گئے جب ابھی انسان کتابت سے بھی آشنا نہیں تھا۔سعودی عرب میں پائے جانے ایسے تاریخی مقامات میں مدینہ منورہ میں الحناکیہ، الشویمس اور اور حائل کے علاقے میں وجبہ جیسے مقامات میں چٹانوں پر ہزاروں سال پرانی کندہ کاری موجود ہے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت یونیسکو نے ان مقامات کی تاریخمی اہمیت کے پیش نظر انہیں عالمی انسانی تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔چونکہ جزیرہ العرب نہ صرف انسانی تہذیبوں کا پرانا مسکن رہا ہے بلکہ آسمانی مذہب اور پیغمبروں کی بھی سرزمین ہے۔قرآن پاک اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی جزیرہ العرب میں رونما ہونے والے کئی تاریخی واقعات کی طرف اشارہ موجود ہے۔

جزیرہ العرب میں پہلی معلوم انسانی ھجرت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 17 ہزار سال پہلے ہوئی۔ خشک سالی کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد اطراف سے ھجرت کرکے جزیرہ نما عرب میں آباد ہوئی۔مورخین کا کہنا تھا کہ پتھر کے قدیم وسطی دور میں سب سے زیادہ انسانی ھجرت کا پتا جزیرہ العرب سے ملتا ہے۔ حائل اور الجوف جیسی وادیاں قدیم دور کے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ پانی اور سبزے کی موجودگی کے باعث یہاں بڑی تعداد میں لوگ آتے جاتے اور قیام کرتے رہے۔ انہی مقامات سے ’موستیریہ‘ دور کا انسانی استعمال کا سامان ملتا ہے۔