بے نظیر بھٹو ہسپتال میں علاج معالجے کے لئے آنے والے مردوخواتین مریضوں کو پرچی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ، سروے رپورٹ

ہفتہ اپریل 14:15

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) راولپنڈی اے پی پی بے نظیر بھٹو ہسپتال میں علاج معالجے کے لئے آنے والے مردوخواتین مریضوں کو پرچی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ہفتہ کو اے پی پی کی جانب سے کئے گئے سروے میں یہ صورت حال سامنے آئی کہ مردوں کے لئے اسپتال کے صدر دروازے کے سامنے جبکہ عورتوں کے لئے اوپی ڈی کائونٹر پر کمپیوٹرائزڈ پرچی جاری کرنے کا انتظام کیا گیا ہے دونوں جگہ چھ چھ قطاریں بنی تھیں اور ہر قطار میں 10 سے 15 مریض موجود تھے۔

لائن میں لگے ایک مریض عارف نے بتایا کہ اسے قطار میں کھڑے 45 منٹ ہوگئے ہیں مگر ابھی تک باری نہیں آئی اس نے اسپتال کے پرچی کے نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ایک ڈاکٹر نے بھی کہا کہ پہلے ہر شعبہ کی پرچی کا الگ نظام تھا مگر نئے نظام سے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے اسپتال کے ایم ایس سے جب اے پی پی کے نمائندے نے رجوع کیا تو ایم۔

(جاری ہے)

ایس ڈاکٹر ارشد صابر نے پہلے تو اس صورت حال کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تاہم جب ان سے موقع کا معائنہ کرنے کی درخواست کی گئی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ واقعی مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں پرچی کے نظام کو سنٹرلائز کر نے کا حکم ا وپر سے آیا ہے پورے پنجاب کے اسپتالوں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جب ان سے سوال کیا گیا کہ مانیٹرنگ کے با وجود اتنے اہم اور بڑے اسپتال کا یہ حال کیسے ہو گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نئے کمپیوٹر سرور کے لئے ٹینڈر آج کھولنے ہیں ایک ہفتے تک صورت حال بہتر ہو جائے گی اے پی پی کے سروے میں یہ بات خاص طور پر محسوس کی گئی کہ خلق خدا کو اسپتال انتظامیہ کے طرز عمل سے شدید ازیت اور کوفت کا سامناہے۔