کشمیریوں کی تکالیف کا اب خاتمہ ہوناچاہیے ، سابق وزیر اعظم ناروے

ہفتہ اپریل 15:10

اوسلو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) ناروے کے سابق وزیر اعظم جل مکنے بوندیویک نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی تکالیف کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جل مکنے بوندیویک نے اپنی تنظیم ’’اوسلو سینٹر‘‘ کے زیر اہتمام دارلحکومت اوسلو میں کشمیر کے بارے میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں امید ظاہر کی کہ تنازعہ کشمیر جلد حل کر لیا جائے گا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہوںنے تنازعہ کشمیر سمیت جنوبی اشیا کو درپیش تمام مسائل پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ سیمینارسے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک اور سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر سٹن ودمالم نے بھی خطاب کیا۔ جل مکنے بوندیویک نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مشال ملک کی کوششوں کو سراہا۔

(جاری ہے)

مشال ملک نے اپنی تقریر میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی فورسز کی طرف سے بیگناہ کشمیریوں پر جاری مظالم رکوانے اور تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔ انہوںنے بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن کشمیری مظاہرین کے خلاف پیلٹ بندوق کے استعمال اور جموںخطے کے ضلع کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے حوالے سے بھی بات کی۔

دریں اثنا کشمیر سکنڈینیوین کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار علی شاہنواز نے امید ظاہر کی ہے کہ سیمینار میں ناروے کے دانشوروں اور محققین کی بڑی تعداد میں شرکت سے تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں مزید مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ناروے میں کشمیر کاز کے حوالے سے گزشتہ بیس برسوں سے کام کیا جا رہا ہے۔