کاشتکاروں کیلئے بجٹ میں ریلیف خوش آئندہے،سیدفخراما م

ہفتہ اپریل 18:37

ملتان۔28 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سابق سپیکرقومی اسمبلی سیدفخرامام نے 2018-19ء کے بجٹ میں زرعی مشینری پرڈیوٹی کم کرنے کاخیرمقدم کیاہے اوراس بات پروزوردیاہے کہ حکومت کاشتکاروں کو مزید ریلیف فراہم کرے ۔انہوںنے کہاکہ محکمہ زراعت کے شعبہ انجینئرنگ کو ایسی زرعی مشینری تیارکرنی چاہیے جومقامی طورپرتیارہوتاکہ اس میں مقامی ضرویات کو بھی مدنظررکھاجاسکے ۔

سیدفخرامام نے کہاکہ حکومت کو کھادکی قیمت میں 800سے ایک ہزار روپے فی بوری کمی کرنی چاہیے تاکہ کاشتکارزرعی پیداواورمیں اضافہ کرسکیں ۔انہوںنے کہاکہ زرعی شعبہ کوپانی کی کمی کابھی سامناہے ۔حکومت کو صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پرفوری توجہ دینی چاہیے ۔صرف صوبوں ہی نہیں اضلاع میں بھی پانی کی تقسیم کے معاملات پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

آئندہ تین سے چارمہینے میں زرعی شعبہ کوپانی کی شدیدقلت کاسامنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ حکومت کوفصلوں کی امدادی قیمتوں کابھی اعلان کرناچاہیے۔خاص طورپرمکئی ،گنے ،آلواورکپاس کی امدادی قیمتیں مقررکی جانی چاہیے ۔ماضی میں حکومتیں کاشتکاروں کے لئے امدادی قیمتوں کااعلان کرتی تھی مگراب یہ سلسلہ ختم ہوگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ زرعی شعبے میں تحقیق پرزیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اوراس کے لئے رقوم مختص کی جانی چاہیے ۔

متعلقہ عنوان :