تجارتی ،کاروباری تنظیموں اور کاروباری افراد نے وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے کاروبار دوست اقدامات متعارف کرانے کو سراہا

ہفتہ اپریل 18:41

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) تجارتی ،کاروباری تنظیموں اور کاروباری افراد نے وفاقی بجٹ 2018-19ء میں حکومت کی جانب سے کاروبار دوست اقدامات متعارف کرانے کو سراہا ہے اور کہا کہ ان اقدامات سے قومی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ قومی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں کہ کسی منتخب حکومت نے 6 بجٹ پیش کئے ہوں اور ملک کی صنعت اور تجارت کے شبعوں کی بحالی اور بہتری کیلئے جامع اقدامات متعارف کرائے ہوں۔

وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر مظہر علی نے وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا پچھلے 5 بجٹ سے بہتر اور متناسب بجٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے صنعتی شعبہ کی ترقی کیلئے بعض خصوصی اقدامات متعارف کرائے ہیں جن سے مقامی صنعت کے مسائل کے خاتمہ اور برآمدات کے اضافہ سے اقتصادی شرح نمو کے اضافہ میں مدد ملے گی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پولٹری ،ڈیری ،ادویہ سازی اور ماہی گیری سمیت مختلف شعبوں کے فروغ اور ترقی کیلئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں جس سے ملک میں کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کا فروغ ہوگا۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبہ کیلئے متعارف کرائے گئے اقدامات اور کارپوریٹ سیکٹر کے لئے ٹیکس مراعات سے سماجی شعبہ کی ترقی میں مدد ملے گی۔

ادھر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عامر وحید شیخ نے وفاقی بجٹ کو غریب دوست اور معاشی ترقی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں حکومت نے خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کیلئے معاشی شرح نمو کیلئے 6.7 فیصد کا ہدف مقرر کیا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے مقامی صنعتوں کو یکساں مواقعے فراہم کرنے اور کاروباری اخراجات میں مزید کمی کی ضرورت ہے۔