ماہرین زراعت کی کاشتکاروں کو گندم کی گہائی کے وقت ڈرم کے چکر 700سے 750 فی منٹ رکھنے کی ہدایت

اتوار اپریل 15:00

فیصل آباد۔29 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو گندم کی گہائی کے وقت ڈرم کے چکر 700سے 750 فی منٹ رکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ چکر زیادہ ہونے کی صورت میں دانے زیادہ ٹوٹتے ہیں اور بھوسے کے ساتھ باہر جاتے ہیںاس لئے بیلٹوں کا تنائو مناسب رکھا جائے کیونکہ زیادہ تنائو کی صورت میں ان کے ٹوٹنے کا امکان ہے اور کم ہونے کی وجہ سے یہ سلپ ہوجاتی ہیںاسی طرح بلوٹیر کی ہوا کا رخ درست کریں۔

انہوںنے بتایاکہ ہوا اوپر والی جالی کے اوپر اور نیچے سے گزرنی چاہیے جبکہ تھریشر اس طرح لگائی جائے کہ ہوا اور تجربہ کار ہو۔انہوںنے کہاکہ گندم کے گٹھوں میں کوئی سخت چیز مثلاً پتھر یا لوہا نہ ہو اور کام کے دوران تھریشر کچھ دیر کیلئے بند کر دیں اور بال بیئرنگ کی گریس چیک کرلیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ تھریشننگ کیلئے گیلی فصل ہرگز نہ ڈلیں اور تھریشر کو لیول جگہ پر کھڑا کریں جبکہ اس کی شافٹ، پلی، ٹریکٹر کی شافٹ، پلی کے ساتھ لائن میں ہونی چاہیے۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکار گالے کی مقدار اور تھریشننگ کا وقت فصل میں نمی کے حساب سے متعین کریں نیز رات کو کام کرنے والے آدمیوں کو ڈھیلے کپڑے نہیں پہننے چاہئیں اور صافہ یا چادر جو کہ منہ لپیٹنے کیلئے باندھتے ہیں ان کا کوئی سرا کھلا نہیں ہونا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :