وزیراعظم پر قاتلانہ حملے میں فلسطینی انٹیلی جنس کا ہا تھ ہے،حماس کا الزام

فلسطینی انٹیلی جنس نے شدت پسندوں کو دھماکااوروزیراعظم پر حملے کے لیے مجبور کیا ،بیان

اتوار اپریل 15:20

دبئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والی فلسطینی تنظیم حماس نے فلسطینی انٹیلی جنس کو مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ اس نے شدت پسند جماعتوں کو وہ دھماکا کرنے پر مجبور کیا جس میں فلسطینی وزیراعظم رامی الحمداللہ کی سواری کو نشانہ بنایا گیا تھاجبکہ اٴْس وقت فلسطینی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ قاتلانہ حملے کی یہ کوشش حماس تنظیم کی منصوبہ بندی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حماس نے ایک بیان میں کہاکہ تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ دھماکے کی کارروائی میں ایک شدت پسند جماعت ملوث ہے۔ اس کے سربراہ کا نام احمد فوزی سعید صوافطہ ہے جو ابو حمزہ الانصاری کی عٴْرفیت سے جانا جاتا ہے۔حماس کا کہنا تھا کہ اس شدت پسند جماعت کو رام اللہ میں جنرل انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے پشت پناہی حاصل ہے۔

(جاری ہے)

حماس کے مطابق یہ جماعت غزہ اور سیناء میں دہشت گرد حملوں کی ذمّے دار ہے اور وہ غزہ کا دورہ کرنے والی بین الاقوامی شخصیات، مصری سکیورٹی وفد اور حماس تنظیم کے اہم رہ نماؤں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی تھی۔دوسری جانب فلسطینی حکومت نے ایک بیان میں حماس کے اس موقف کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر قاتلانہ حملے کا ذمّے دار ٹھہرایا ہے۔ حکومت نے حماس کی جانب سے فلسطینی عوام اور اداروں کو سیناء میں دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش پر افسوس کا اظہار کیا۔۔غزہ اور رام اللہ کے درمیان ایک بار پھر الزامات کے تبادلے کے ساتھ ہی فریقین کے بیچ اختلافات نے سر اٹھا لیا ہے جو قاہرہ کے زیر قیادت مصالحتی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

متعلقہ عنوان :