لاکھ تک آمدن کے حامل افراد پر انکم ٹیکس صفر جبکہ افرادی تنظیم پر 60 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 8لاکھ 80 ہزار روپے اور 30فیصداضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا

اتوار اپریل 16:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) 4 لاکھ تک آمدن کے حامل افراد پر انکم ٹیکس صفر جبکہ افرادی تنظیم پر 60 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 8لاکھ 80 ہزار روپے اور 30فیصداضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے فنانس بل 2018ء میں تجویز دی گئی ہے کہ انفرادی حیثیت میں4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2ہزارروپے، 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 12 لاکھ سے زائد آمدن 5 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

24 لاکھ سے 48 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 60 ہزار روپے اور 24 لاکھ سے زائد پر 10 فیصد جبکہ 48 لاکھ روپے سے زائد پر 3لاکھ جبک اس سے زائد پر15 فیصد اضافی انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔ ایسوسی ایشن آف پرسنز کی مد میں 4 لاکھ روپے تک آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا تاہم 4 لاکھ سے زائد اور 12لاکھ سے کم پر 5 فیصد ، 12 لاکھ سے زائد اور 24 لاکھ سے کم پر 40 ہزار روپے اور 10 فیصد اضافی انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔

(جاری ہے)

24 لاکھ سے زائد اور 36 لاکھ سے کم پر ایک لاکھ 60 ہزار روپے جبکہ 24لاکھ سے زائد پر 15 فیصد اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔ 36 لاکھ سے 48 لاکھ کی آمدن پر 3 لاکھ 40ہزار جبکہ 36لاکھ سے آگے والی آمدن پر 20 فیصد اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔ 48 لاکھ سے 60لاکھ تک کی آمدن پر 5 لاکھ 80ہزار جبکہ 48 لاکھ سے آگے کی آمدن پر 25 فیصد اضافی انکم ٹیکس کی تجویز ہے جبکہ 60لاکھ سے زائد آمدن پر 8 لاکھ 80ہزار جبکہ 60 لاکھ سے آگے والی آمدن پر 30 فیصد اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔

متعلقہ عنوان :