داعش سے تعلق کے الزام میں روسی عدالت نے 19 خواتین کو عمر قید سنا دی

سزاپانے والی متعددخواتین کے بچے بھی ہمراہ تھے،والدین سے رابطہ کرکے فیصلے سے آگاہ کریںگے،روسی عدالت

پیر اپریل 12:24

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) عراق کی ایک عدالت نے دہشت گرد گروپ داعش سے تعلق پر 19 روسی خواتین کو عمر قید کی سزا سنادی ۔ عراق کی طرف سے داعش سے تعلق رکھنے والی غیر ملکی خواتین کے خلاف سخت فیصلوں کی یہ تازہ کڑی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دہشت گردی سے متعلق مقدمات سننے والی بغداد کی مرکزی فوجداری عدالت کے سربراہ نے کہا کہ ان خواتین پر یہ الزام ثابت ہو گیا ہے کہ انہوں نے داعش میں شمولیت اختیار کی اور اس کی مدد کی۔

آذر بائیجان سے تعلق رکھنے والی چھ خواتین جبکہ ازبکستان سے تعلق رکھنے والی چار خواتین کو بھی انہی الزامات کے تحت عمر قید کی سزائیں سنائیں۔ جن خواتین کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں سے اکثریت کے ساتھ ان کے بچے بھی موجود ہیں۔

(جاری ہے)

ان خواتین کو اس سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔فیصلے کے وقت عدالت میں موجود ایک روسی سفارتکار نے بتایاکہ ہم ان خواتین کے والدین سے رابطہ کریں گے تاکہ انہیں اس فیصلے سے متعلق آگاہ کیا جا سکے۔

دہشت گرد گروپ داعش نے سال 2014ء کے دوران عراق کے قریب ایک تہائی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جس میں ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل پر قبضہ بھی شامل تھا۔ بغداد حکومت کی طرف سے داعش کو شہر کے تمام شہری علاقوں سے نکال باہر کر دینے کے بعد گزشتہ برس دسمبر میں داعش کے خلاف فوجی فتح کا اعلان کیا گیا تھا۔عراقی فورسز کے داعش کے خلاف آپریشن کے دوران کم ازکم 560 خواتین اور 600 ایسے بچوں کو حراست میں لیا گیا جنہیں داعش کے جنگجوؤں کے رشتہ دار قرار دیا گیا۔

ان کے خلاف عراقی عدالتیں تیز رفتاری سے فیصلے سنا رہی ہیں۔عراقی عدالتیں اب تک 300 سے زائد افراد کو داعش سے تعلق کے الزام میں سزائے موت سنا چکی ہیں جن میں درجنوں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ عراق کے انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون کے تحت ایسے افراد کو بھی سزا دی جا سکتی ہے جن پر یقین ہو کہ انہوں نے شدت پسندوں کی مدد کی تھی بھلے وہ براہ راست کسی حملے میں شامل نہ بھی رہے ہوں۔

متعلقہ عنوان :