محنت کشوں کی محنت اورسرمایہ کاری کے مطلوبہ معیارکے مطابق نتائج وفوائد کا حصول ممکن بنایاجائے،گورنرخیبرپختونخوا

پیر اپریل 22:26

محنت کشوں کی محنت اورسرمایہ کاری کے مطلوبہ معیارکے مطابق نتائج وفوائد ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) گورنرخیبرپختونخوا انجینئراقبال ظفرجھگڑا نے نہ صرف محنت کشوں بلکہ سرمایہ کاروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ دستیاب وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ باہمی اتحاد اورخوشگوار تعلقات کار کا ماحول بھی برقراررکھیں تاکہ محنت کشوں کی محنت اورسرمایہ کاری کے مطلوبہ معیارکے مطابق نتائج وفوائد کا حصول ممکن بنایاجاسکی"۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے یوم مزدور کے حوالے سے اپنے ایک پیغام میں کیاہے۔ گورنرکے پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے۔" یکم مئی ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتاہے جو شکاگو کے محنت کشوںنے اپنے حقوق کی پاسداری اور محنت کی عظمت کیلئے سرانجام دی تھیں۔ ان کے مسلمہ اقدام سے عالمی برادری اسقدر متاثرہوئی کہ اس دن کو محنت کی اہمیت کو اجاگرکرنے اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کا مقصد یقینی بنانے کی غرض سے عالمی سطح پر منایاجارہاہے۔

(جاری ہے)

ترقیافتہ اور باشعور معاشروں اور ترقی پذیرممالک کے مابین دستیاب سہولیات کے معیار اور مقدار کے حوالے سے فرق تفریق درحقیقت اس ضمن میں موجود احساس کی نوعیت اور ایسا ممکن بنانے کی غرض سے ان کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے تناسب میں فرق کانتیجہ ہے۔ عالمی برادری کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے ہم نہ صرف محنت کشوں کے حقوق کی سرپلندی کے حوالے سے تمام ترعالمی معاہدوں اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ ایک اسلامی ریاست کے شہری ہونے کے ناطے بھی ہم اس حوالے سے اپنی تمام ترذمہ داریوں کی ادائیگی کے پابند ہیں۔

اس ضمن میں اسلامی تعلیمات سے جو بنیادی پیغام ملتاہے وہ ہمیں اس امرکاپابند کرتاہے کہ محنت کش کی محنت کا صلہ اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کیا جائے۔ تیزی کے ساتھ رو پذیر ہوتی جدید فنی ایجادات کے تناظر میں معروضی حالات ہم سے محنت کشوں کی صلاحیت کارمیں اضافے کیلے غیرمعمولی اور تسلسل کے ساتھ کوششیں کرنے، ان کی تربیت اور ان کے علم اور مہارت میں اضافے کیلئے جدوجہد کرنے کے متقاضی ہیں تاکہ ان کی محنت کی صلاحیتوں کو عمدہ ترین انداز سے قومی ترقی وخوشحالی کیلئے بروئے کار لایاجاسکے۔

یہ نہ صرف محنت کشوں بلکہ ان کے اہل خانہ کی فلاح کیلئے بھی ضروری ہے۔ بحیثیت قوم آج ہمیں جس نوع کے مسائل درپیش ہیں ان کے تناظر میں نہ صرف میں محنت کشوں بلکہ سرمایہ کاروں سے بھی اپیل کرتاہوں کہ وہ دستیاب وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ باہمی اتحاد اورخوشگوار تعلقات کار کا ماحول بھی برقراررکھیں تاکہ محنت کشوں کی محنت اورسرمایہ کاری کے مطلوبہ معیارکے مطابق نتائج وفوائد کا حصول ممکن بنایاجاسکی"۔

متعلقہ عنوان :