کے الیکٹرک نجکاری کے بعد قانون سے بالاتر ہوگیا ہے، سندھ واٹر کمیشن

جب سے یہ ادارہ پرائیویٹائز ہوا ہے لگتا ہے ملک میں کوئی قانون ہی نہیں، کھمبوں کا حال دیکھا ہی جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم واٹر کمیشن کی تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو صفائی اور کچرا اٹھانے کے لیے دو ہفتے کی مہلت، نالوں پر قائم تجاوزات بھی فوری طور پر ہٹانے کا حکم

بدھ مئی 15:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سندھ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نجکاری کے بعد کے الیکٹرک قانون سے بالاتر ہوگیا ہے۔بدھ کوسندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن کی سماعت ہوئی، جس میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کے الیکٹرک کی بکھری تاروں کا معاملہ زیر غور آیا۔ چیف ڈسٹری بیوشن افسر کے الیکٹرک نے کمیشن کے روبرو پیش ہوکر بتایا کہ شارع فیصل اور دیگر مقامات سے کیبلز ہٹا دی ہیں، جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم نے کہا کہ کے الیکٹرک نجکاری کے بعد قانون سے بالاتر ہوگیا ہے، جب سے یہ ادارہ پرائیویٹائز ہوا ہے لگتا ہے ملک میں کوئی قانون ہی نہیں، کھمبوں کا حال دیکھا ہی تاروں کی بھرمار ہے۔

چیف ڈسٹری بیوشن افسر کے الیکٹرک نے کہا کہ زیادہ تاریں ٹی وی کی کیبلز ہیں، 5 ہزار ٹرانسفارمز کو انسولیٹڈ کیبلز پر منتقل کردیا ہے، گنجان آباد علاقوں میں مسائل زیادہ ہیں، مزید 3 سے 4 سال میں یہ مسئلہ حل ہوجائے گا، کمیشن نے استفسار کیا کہ نالوں پر موجود کیبلز کب ہٹائیں گی ۔

(جاری ہے)

چیف ڈسٹری بیوشن افسر نے کہا کہ کچھ مشکلات ہیں کوشش کررہے ہیں جلد ہوجائے۔

دوران سماعت واٹر کمیشن نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو صفائی اور کچرا اٹھانے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی۔ کمیشن نے نالوں پر قائم تجاوزات بھی فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ کمیشن نے ہدایت کہ کہ کراچی میں 4 بڑے نالوں کی صفائی فوری مکمل کریں، جہاں تجاوزات نہیں ہیں وہاں کے الیکٹرک فوری کیبلز ہٹائے، میونسپل کارپوریشن کی ورکشاپ سے فوری قبضہ ختم کرایا جائے۔