نیب کسی کیساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا، پالیسی فیس نہیں، کیس دیکھنے کی ہے، جسٹس (ر) جاوید اقبال

اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں چمک رہا ہے تا کہ کرپشن کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا جائے، نیب کسی کیساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا ،بدعنوانی کرنیوالے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی، چیئرمین نیب کا اجلاس سے خطاب

بدھ مئی 21:45

نیب کسی کیساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا، پالیسی فیس نہیں، کیس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں چمک رہا ہے تا کہ کرپشن کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا جائے، نیب کسی کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا ،بدعنوانی کرنیوالے کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی، نیب کی پالیسی فیس نہیں، کیس دیکھنے کی ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے یہ بات بدھ کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل نیب اکاؤنٹبلٹی اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ جسٹس جاوید اقبا ل نے 11 اکتوبر2017ء کو اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعداپنے پہلے خطاب میں نیب کے تمام افسران سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کارروائی کریں خصوصاًاشتہاری اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔

(جاری ہے)

نیب نے چیئرمین نیب جناب جسٹس (ر)جاوید اقبال کے 11 اکتوبر2017 ء کے احکمات کی روشنی میں اب تک 226 افراد کو گرفتار کیا ، 872 شکایات کی جانچ پڑتال کی، 403 انکوائریوں اور82 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی جبکہ 217 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ احتساب عدالت میں دائر کیے گئے جن میں سی39 افراد کو متعلقہ احتساب عدالت نے قانون کے مطابق سزا سنائی۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملزم مظفر نشاط کے خلاف بدعنوانی کے 2 ریفرنسز 2001ء اور 2004ء میں احتساب عدالت میں پیش کیے گئے، ملزم مظفر نشاط 2001ء سے ہی اشتہاری تھا۔

ملزم کو 2004 میں احتساب عدالت نے اس کی عدم موجودگی میں نیب کے قانون 31-A کے تحت سزا سنائی۔ نیب نے مفرور ملزم کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے کارروائی کا آغاز کیا۔ ملزم مظفر نشاط نے نیب کو لوٹی گئی رقم واپس کرنے کیلئے نیب سے پلی بارگین کی درخواست دی۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ملزم مظفر نشاط کی پلی بارگین کی درخواست متعلقہ احتساب عدالت میں نیب آرڈینینس کے 25-B کے تحت پیش کرنے کی منظوری دی جس کی متعلقہ معززاحتساب عدالت حتمی منظوری دے گی۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں چمک رہا ہے تا کہ کرپشن کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا جائے۔ نیب کسی کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا۔ جس نے مبینہ طو پربدعنوانی کی ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ نیب کی پالیسی فیس نہیں بلکہ کیس کو دیکھنے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان سے بدعنوانی کا خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی اور اس کو قومی خزانے میں جمع کروانا ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ وہ شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں اور نیب کے مقدمات کی پیروی ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق موثر انداز سے کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے۔