شراب نوشی سے سات خطرناک ترین کینسر لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ، ماہرین

جمعرات مئی 14:22

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ شراب نوشی خواہ کم ہو یا زیادہ سات خطرناک ترین کینسر کی وجہ بن سکتی ہے۔امریکن سوسائٹی آف کلینکل اونکولوجی ( اے ایس سی او) کے شعبہ کینسرکے ممتاز ماہرین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شراب نوشی جتنی بڑھے گی کینسر کے خطرات اتنے ہی زیادہ ہوںگے۔ شراب کم پینے سے جگر، منہ، چھاتی، بڑی آنت اور دیگر طرح کے کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق2013 میں 73 فیصد امریکی شراب نوشی کرتے تھے جن میں سے 13 فیصد بھرپور شراب نوشی کے عادی تھے۔

(جاری ہے)

اے ایس سی او کے مطابق اس بات کا ثبوت واضح ہے کہ شراب کئی طرح کے کینسر کی وجہ ہے جبکہ پیٹ اور لبلبے کا کینسر بھی شراب نوشی سے ہی لاحق ہوتا ہے۔ صرف امریکا میں 2009 کے دوران 18 سے 21 ہزار اموات کی وجہ شراب نوشی تھی۔ اس رپورٹ کی مرکزی مصنفہ نیول لوکونٹے کہتی ہیں کہ شراب کسی بھی قسم کی ہو اس سے کینسر ہوسکتا ہے۔ سر، گردن اور ایسوفیگس کے کینسر کی اہم وجہ شراب میں موجود ایسٹلڈیہائیڈ مرکب ہے۔ شراب نوشی خواتین میں ایسٹروجن ہارمون کی مقدار بڑھادیتی ہے اور ان میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسطرح شراب پینے والی خواتین کو بریسٹ کینسر ہوسکتا ہے۔