مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی کا وفاقی بجٹ 2018-19ء پر بحث کے دوران ملے جلے ردعمل کا اظہار

جمعہ مئی 14:48

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 2018-19ء پر بحث کے دوران ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ اپوزیشن ارکان نے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ حکومتی ارکان نے بجٹ کو عوامی امنگوں کا عکاس قرار دیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر تیسرے روز جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ریونیو جمع کرنے سمیت کوئی بھی معاشی اہداف حاصل نہیں کئے گئے۔

(جاری ہے)

یہ غریب کش بجٹ ہے، امیر اور غریب سے یکساں ٹیکس لئے جا رہے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکس زیادہ ہیں، اب معاشی استحصال کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ بجٹ متوازن ہونا چاہئے تاکہ خط غربت سے نیچے رہنے والوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ بجٹ میں ارکان نے جن بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کی ان کو درست کیا جائے، افراط زر کم ہونا خوش آئند ہے۔ ایم کیو ایم کے وسیم حسین نے کہا کہ حیدر آباد میں یونیورسٹی اور ہسپتال بننے چاہئیں، ہماری آواز کو دبایا گیا، انہوں نے پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کی۔ پیپلز پارٹی کے اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ ان کی پارٹی ہمیشہ اقتدار میں رہی، یہ اپنا جواب دیں انہوں نے کیا کیا۔