فاٹا میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہوگی

اتوار مئی 17:50

ہنگو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) پولیٹکل انتظامیہ، کمشنرز، ایجنسی سرجنز اور قانون نافذکرنیوالے اداروں کی نگرانی اور سرپرستی میں فاٹا میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہوگی جو 9 مئی تک جاری رہے گی۔ جس کے بعد رہ جانے والے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے اور سرویلنس کا کام جاری رکھا جائے گا۔ پورے فاٹا میں 5 سال سے کم عمر کے 999050 بچوں کو پولیو قطرے پلوائے جائیں گے۔

ان بچوں تک ویکسین پہنچانے میں کل 4553 ٹیمیں حصہ لیں گی، جن میں 4168 موبائل،، 281 فکسڈ اور 104 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔اس سلسلے میںایمر جنسی آپریشن سنٹر فاٹا کے دفتر سے جاری پریس ریلیز میں کوآرڈینیٹر ای او سی فاٹا محمود اسلم خان نے کہا کہ مجھے یقین ہے ہمارے صف اول کے پولیو کارکنان اس (مئی 2018 کی) مہم میں، پولیٹیکل انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے، ہر بچے تک رسائی اور پولیو قطرے پلوانے کے اہداف کو ایسے ہی ممکن بنائیں گے جیسے انہوں نے پچھلے مہینے آئی پی وی-او پی وی (ٹیکے کے ذریعے دی جانے والی اور پلائی جانے والی پولیو ویکسین) مہم کے پہلے مرحلہ میں کامیابی سے اہداف حاصل کیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ ہدف کے 99.66 فیصد بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی، جو جان کر خوشی ہوتی ہے کیونکہ ان بچوں کی پولیو کے خلاف قوت مدافعت کی سطح مزید بہتر ہوئی۔ پولیو ویکسین کی متعدد خوارکیں (بعض اوقات 10 سے بھی زائد بار) بچے کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ہر اضافی خوراک بچے کے جسم میں پولیو وائرس کے خلاف موجود قوت مدافعت کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

کوآرڈینیٹر ای او سی فاٹا محمود اسلم خان نے کہا کہ ہر بچے کو اس موثر و مفید ترین ویکسین کا دینا ضروری ہے، جو دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیو حساس اور خصوصاً سرحد پار کرنے والے مسافر ہر بچے کوہر ممکن پولیو قطرے پلوانے پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پولیو ویکسین محفوظ، موثر اور حکومت پاکستان کے تحت کام کرنے والی اتھارٹیز سے منظور شدہ ہے جو انتہائی احتیاط کے ساتھ شعبہ صحت کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق تیار کی جاتی ہے۔

اور یہ وہی ویکسین ہے جس کو 50 ممالک نے پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کیا۔گزشتہ اکیس (21) مہینوں سے فاٹا میں کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔۔فاٹا میں آخری پولیوکیس 27 جولائی، 2016 کو جنوبی وزیرستان ایجنسی میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے اب تک کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آیا۔ گزشتہ پورا سال (2017 کے دوران) فاٹا میں کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ موجودہ سال میں بھی اب تک فاٹا میں کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آیا۔