ڈیرہ غازیخان،ٹیچنگ ہسپتال میں نصب طبی کچڑا جلانے والے انسٹی لیٹر کے زہریلے دھوئیںسے رہائشی آبادی کے مکین سانس اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا

ہسپتال انتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے چمنی کو اونچا اوراس کا نظام ٹھیک کرنے کے احکامات ہوا میں اڑادئیے، انسٹی لیٹرکو آبادی سے باہر منتقل کیا جائے ۔اہل علاقہ

اتوار مئی 19:20

ڈیرہ غازیخان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) ٹیچنگ ہسپتال میں نصب طبی کچڑا جلانے والے انسٹی لیٹر کے زہریلے دھوئیںسے اردگرد کے رہائشی آبادی کے مکین سانس اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا، ہسپتال انتظامیہ حساس معاملے پر آنکھیں بند کر کے خاموش تماشائی بن گئی،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے چمنی کو اونچاکرنے اوراس کا نظام ٹھیک کرنے کے احکامات ہوا میں اڑادئیے، انسٹی لیٹرکو آبادی سے باہر منتقل کیا جائے ۔

اہل علاقہ۔تفصیلات کے مطابق ٹیچنگ ہسپتال کی ڈاکٹرز کالونی میں قائم مختلف وارڈ سمیت آپریشن تھیٹر کا طبی کچڑا، سرنجوں‘ ڈرپس، کینسر خطرناک ویکسین کا فضلا جلانے کیلئے انسٹی لیٹر کی چمنی کی اونچائی کم ہے ، ارد گرد رہائشی آبادیوں میں مختلف بیماریاں پھیلنے کاخدشہ بڑھ گیا جسکی وجہ سے مریض اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے گردونواح سنٹرل جیل کے ملازمین ،اسیران ،سی ای او ایجوکیشن آفس،سنٹرل آف ایکسی لینس سکول ،سوشل ویلفیئرکمپلیس،ضلع کونسل کالونی ،ہسپتال کالونی کے مکین بھی فضائی آلودگی کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

زہریلے دھوئیں سے جان چھڑانے اور معاملات کو بہتر بنانے کے اقدامات سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے دورہ ڈیرہ غازیخان کے موقع پر ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کی تھی دوران سروے انکشاف ہوا کہ انسٹی لیٹرکے زریعے طبی کچڑے تو جلایا جارہاہے لیکن انسٹی لیٹر فنکشنل نہ ہے پانی کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے زہریلادھوئیں سے انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیںہسپتال انتظامیہ نے انسنی ایٹر سے پیدا ہنے والا فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے کوئی خاص اقدامات تاحال نہ کیے ہیں واضح رہے طبی فضلا جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں سانس ، سینے ودیگر امراض کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے انسپکٹرمحکمہ ماحول لیات بھی کئی دفعہ ہسپتال انتظامیہ کو نظام ٹھیک کرنے کی وارننگ دے چکا ہے ۔

مریضوںاور ان کے لواحقین اور متاثرہ آبادیوں کے مکینوں نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :