چین کے عطیہ کردہ کارل مارکس کے مجسمے کی جرمنی میں انکے آبائی قصبے ٹرائیر میں نقاب کشائی

2.3میٹرک ٹن وزنی کانسی کا یہ مجسمہ مارکس کے آبائی گھر کے سامنے نصب کیا گیا گورنر، مالیو ڈریئر نے مجسمے کو چین کی طرف سے شراکت داری کے لیے ایک پل اور ستون قرار دیا

اتوار مئی 20:30

برلن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) چین کی طرف سے عطیہ کئے گِئے کارل مارکس کے مجسمے کی جرمنی میں انکے آبائی قصبے ٹرائیر میں نقاب کشائی کر دی گئی ، 2.3میٹرک ٹن وزنی کانسی کا یہ مجسمہ مارکس کے آبائی گھر کے سامنے نصب کیا گیا ہے۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کی طرف سے عطیہ کئے گئے جرمنی فلسفی کارل مارکس کے مجسمے کی انکی پیدائش کے موقع پر انکے آبائی قصبے ٹرائیر میں نقاب کشائی کی گئی۔

کانسی سے تیار کیا گیا یہ مجسمہ کارل مارکس کی در میانی عمر اور بائیں ہاتھ میں کتاب لیے چلتے ہوئے شخص کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مجسمہ پورٹا نیگرا کے قریب رومن شہر کے بڑے دروازے جو کہ ٹرائیر کا تاریخی نشان ہے پر نصب کیا گیا ہے۔ یہ جرمنی کے قدیمی شہروں میں سے ایک ہے 2.3میٹرک ٹن وزنی کانسی کا یہ مجسمہ مارکس کے آبائی گھر کے سامنے نصب کیا گیا ہی.چینی مجسمہ ساز وا وئیشن نے بتایا کہ 5 مئی کو انکی سالگرہ کی مناسبت سے مجسمے کی اونچائی بھی 5.5 میٹر رکھی گئی ہی مارکس جو کہ ایک یہودی وکیل کے بیٹے تھے نے عظیم مفکر بننے سے قبل ٹرائیر میں 17 سال گزارے تھی.مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب میں چین کے ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس کے نائب ڈائریکٹر گووییمن نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ مارکس کے خیالات دنیا کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور خاص طور سیانکے خیالات چین پر اثرات رکھتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ریاست رہین لینڈ پلیٹنیٹ جہاں ٹرائیر واقع ہے کے گورنر،، مالیو ڈریئر نے مجسمے کو چین کی طرف سے شراکت داری کے لیے ایک پل اور ستون قرار دیا ۔تقریب میں مقامی افراد ، سیاحوں ، چینی مہمانوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔