نائیجیریا کے گاﺅں میں ڈکیتوں اور مقامی ملیشیا کے درمیان تصادم 50سے زائد افراد ہلاک

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 12:31

نائیجیریا کے گاﺅں میں ڈکیتوں اور مقامی ملیشیا کے درمیان تصادم 50سے ..
نائیجیریا (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 مئی۔2018ء) نائیجیریا کے ایک گاﺅں پر ڈکیتوں کے حملے اور مقامی ملیشیا کی جوابی کارروائی میں 50سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔۔پولیس حکام نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ حملہ شمالی ریاست کدونا کے گواسکا نامی ایک گاﺅں پر کیاگیا۔کدونا کے پولیس کمشنر آسٹن ایوار نے بتایا ہے کہ پولیس نے گاﺅں کے آس پاس سے 12 لاشیں برآمد کی تھیں جب کہ آج انہیں مزید 48 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاحال یہ واضح نہیں کہ دونوں جانب کے کتنے کتنے افراد اس لڑائی میں مارے گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے کانشانہ بننے والا گاﺅں کدونا کے جس علاقے میں واقع ہے وہ ڈکیتوں کا گڑھ ہے جہاں واقع گھنے جنگلات میں ڈاکوﺅں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔

(جاری ہے)

اس علاقے میں ڈکیتوں کے خلاف سرکاری فورسز ماضی میں بھی کئی کارروائیاں کرچکی ہیں لیکن گھنے جنگلات کے باعث ڈاکوﺅں کا مکمل صفایا ممکن نہیں ہوسکا ہے۔

علاقے میں سرگرم ڈکیت گروہ گزشتہ کئی برسوں سے دیہات پر حملہ کرکے قتل و غارت اور لوٹ مار کرتے ہیں اور کسانوں سے ان کی فصلیں اور مویشی لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ڈکیتوں کے مقابلے کے لیے کئی دیہات کے رہائشیوں نے اپنی اپنی ملیشیائیں بھی تشکیل دے رکھی ہیں جن کی ڈکیتوں کے ساتھ جھڑپیں معمول ہیں۔ایک علاقہ مکین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ گاﺅں کے رہائشیوں پر مشتمل ملیشیا نے حال ہی میں ڈکیتوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس کے جواب میں ڈکیت گروہ نے گاﺅں پر حملہ کیا۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں جو حملے کے دوران اپنے والدین سے بچھڑ گئے تھے۔علاقہ مکینوں کے مطابق ڈکیت گروہ نے گاﺅں پر دوپہر ڈھائی بجے حملہ کیا جو تین گھنٹے تک جاری رہا‘حملہ آوروں نے کئی گھروں کو بھی آگ لگادی۔نائیجیریا میں سکیورٹی کی صورتِ حال خاصی مخدوش ہے اور ملک کے سکیورٹی اداروں کو بیک وقت کئی علاقوں میں مختلف محاذوں پر دشمنوں سے لڑنا پڑ رہا ہے۔

ملک کے شمالی علاقے میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام جب کہ تیل کی دولت سے مالا مال جنوبی علاقے میں شدت پسند اور قزاق سرگرم ہیں۔ ملک کے مشرقی علاقے میں علیحدگی پسند تحریک جاری ہے جب کہ بیشتر وسطی علاقوں میں ڈکیتوں اور مقامی ملیشیاﺅں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہے۔نائیجیریا میں آئندہ سال صدارتی انتخابات ہونا ہیں اور ملک میں سکیورٹی کی صورتِ حال انتخابی بحث کا سر فہرست موضوع ہے۔

متعلقہ عنوان :