روہنگیا بحران،میانمار کے خلاف مسلم ممالک متحد، کمیٹی کی تشکیل

میانمارکیخلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کے لئے دباؤ ڈالا جائے گا،یہ مذہبی معاملہ نہیںروہنگیا مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے،مسلمانوںکی جلد اور محفوظ واپسی یقینی بنائی جائے،ظالم کو انصاف کے کٹہرے میں لا یا جائے،او آئی سی وزارء خارجہ کانفرنس

پیر مئی 19:12

ڈھاکہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) روہنگیا بحران کے سلسلے میںمیانمار کے خلاف ایکشن کے لئیے مسلم ممالک متحد ہوگئے، میانمار کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کے لئے دباؤ ڈالا جائے گا،،روہنگیا بحران کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی،یہ ایک مذہبی معاملہ نہیں بلکہ پچھلے 50 برس سے روہنگیا مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے،،روہنگیا مسلمانوںکی جلد اور محفوظ واپسی کویقینی بنایا جائے، مظالم کرنے والے کو انصاف کے کٹہرے میں لا یا جائے۔

رکن ممالک نے میانمار کی حکومت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کر دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس‘ کے وزراء نے آج ایک مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد روہنگیا مسلم اقلیت پر ڈھائے گئے مبینہ مظالم کے تناظر میں میانمار کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کے لئے دباؤ ڈالنا ہے۔

(جاری ہے)

بنگلہ دیش سے روہنگیا مہاجرین کی میانمار واپسی کے معاہدے کو عملی ناکامیوں، حقائق سے ہم آہنگ نہ ہونے اور سفارتی سطح پر متضاد بیانات سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

53 رکنی ’آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس‘ (اوآئی سی) کے وزرائے خارجہ اور سفارت کاروں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا مقصد میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لئے اس ملک کی حکومت کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کے لئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔ یہ پیش رفت بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں او آئی سی کے دو روزہ اجلاس میں اتوار چھ مئی کو ہوئی۔

یہ امر اہم ہے کہ میانمار کی راکھائن ریاست میں گزشتہ برس شروع کردہ عسکری آپریشن کے بعد لگ بھگ سات لاکھ روہنگیا مسلمان سیاسی پناہ کے لئے بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔ فرار ہونے والے روہنگیا مہاجرین میانمار کی ملکی افواج پر وسیع پیمانے پر تشدد اور جنسی زیادتی کی وارداتوں کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ میانمار کی حکومت ایسے تمام الزامات مسترد کرتی ہے تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے میانمار میں جاری مظالم کو متعدد مرتبہ ’نسل کشی‘ سے تعبیر کیا جا چکا ہے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمد العثیمین نے اتوار کو ہونے والی پیش رفت کو روہنگیا بحران کے حل کے لئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک مذہبی معاملہ نہیں بلکہ پچھلے 50 برس سے روہنگیا مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ بین االاقوامی فوجداری عدالت کے استغاثہ نے بھی یہ درخواست کر رکھی ہے کہ ٹریبیونل یہ فیصلہ کرے کہ کیا استغاثہ وسیع پیمانے پر جنسی زیادتی کے واقعات اور قتل کی چھان بین کر سکتا ہے۔

پچھلے ماہ بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک وفد نے خطے کا دورہ کیا تھا اوریہ مطالبہ کیا تھا کہ روہنگیا کی جلد اور محفوظ واپسی کویقینی بنایا جائے۔ وزرا ء خارجہ نے بھی اسی ہفتے روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ مطالبہ کیا ہے کہ مظالم کرنے والے کو انصاف کے کٹہرے میں لا یا جائے۔او آئی سی کے اجلاس میں بنگلہ دیشی وزیر خارجہ اے ایچ محمود علی نے کہا کہ رکن ممالک نے میانمار کی حکومت کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا ہے۔