مقابلہ حفظ و قرات کے انعام یافتہ بیرونِ ملک مقابلوں میں بھی پاکستانی کی نمائندگی کریں گے،سردار یوسف

طلباء کو بین الاقوامی مقابلوں کیلئے سخت محنت اور تیاری کرنے کی ہدایت،آپ بیرون ملک کسی مدرسے یا سکول نہیں بلکہ پاکستان کے نمائندے بن کر جائیں گے،وفاقی وزیر کا تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب

منگل مئی 22:46

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہاہے کہ مقابلہ حفظ و قرات کے انعام یافتہ بیرونِ ملک مقابلوں میں بھی پاکستانی کی نمائندگی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت کے زیر اہتمام 34ویں قومی مقابلہ حفظ قرآن و حٴْسنِ قرآت کی تقسیم انعامات کی تقریب میں کیا انہوں نے تمام انعام یافتگان اور ان کے والدین کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے شرکاء پر قرآن پاک کی تعلیمات اور نبی کریم کی اٴْسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے پر زور دیا انہوں نے طلباء کو بین الاقوامی مقابلوں کیلئے سخت محنت اور تیاری کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ بیرون ملک کسی مدرسے یا سکول نہیں بلکہ پاکستان کے نمائندے بن کر جائیں گے۔

طلبائاپنے اندر مثبت طرزِ عمل اور کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مقابلے کے انعقاد کے سلسلے میں وزارتِ مذہبی امور کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کیا۔ شعبہء حفظ کے چاروں درجات میں اول آنے والے خوش نصیبوں میں صوبہ بلوچستان کے حافظ محمد شیراز، خیبر پختونخواہ کے حافظ محمد حسن ،،سندھ کے حافظ محمد غزالی اور حافظ محمد احسن شامل تھے۔

شعبہ قرآت میں اول پوزیشنز حاصل کرنے والوں میں پنجاب کے قاری عثمان شہات اور قاریہ اقصی کوثر، بلوچستان سے قاری محمد اجمل اور اسلام آباد سے قاریہ عاصمہ شاہنوازشامل تھے۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں صوبائی سطح کے انعام یافتہ حفاظ اور قرائ حضرات کے درمیان مقابلہ ہواتھا۔ پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، افواجِ پاکستان ، آزاد کشمیر اور ضلع اسلام سے کل 63بچوں اور بڑوں نے مقابلے میں حصہ لیا۔

مقابلہ حفظِ قرآن اور حٴْسنِ قرائ ت کی بالترتیب 4، 4کیٹگریاں بنائی گئی تھیں۔حفظِ قرآن کی پہلی کیٹگری میں 30مکمل پاروں، دوسری میں پہلے 20پارے، تیسری میں پہلے 10اور چوتھی کیٹگری میں پہلے پانچ پارے والے حفاظ ِ کرام نے شرکت کی۔ مقابلہ حٴْسنِ قرائ ت کیلئے چار کیٹگریوں میں سے ایک ایک سولہ سال سے کم قاری اور قاریہ کیلئے جبکہ ایک ایک بالترتیب 16سال کی عمر سے زائد قاری اور قاریہ کے لیے مختص تھیں۔

اوّل، دوم اور سوم انعامات بالترتیب 50ہزار، 35ہزار اور 25ہزار رکھے گئے تھے اس طرح مجموعی طور پر آٹھ لاکھ اسی ہزار روپے پر مشتمل 24 انعامات تقسیم کیے گئے۔ مقابلے کے حجز کے فرائض قاری بزرگ شاہ الازہری ، قاری حافظ محمد اعجاز، قاری عبد الطیف اور قاری علی عابد نقوی نے سر انجام دیے۔۔۔۔۔اعجاز خان