بجٹ میں کم سے کم اجرت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا‘

پی ایس ڈی پی میں رقوم چاروں صوبوں کے لئے منصفانہ طور پر مختص کی جائیں، نیب ڈکٹیٹر کا دیا ہوا قانون ہے اسے ختم ہونا چاہیے‘ اسی طرح ہم نے (1)62 ایف بھی ختم کرنے کا کہا تھا مگر ہماری بات کسی نے نہیں سنی قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے چیف وہپ اعجاز حسین جاکھرانی کا بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

جمعرات مئی 12:50

بجٹ میں کم سے کم اجرت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا‘
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے چیف وہپ اعجاز حسین جاکھرانی نے کہا ہے کہ بجٹ میں کم سے کم اجرت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا‘ پی ایس ڈی پی میں رقوم چاروں صوبوں کے لئے منصفانہ طور پر مختص کی جائیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2018-19ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اعجاز حسین جاکھرانی نے کہا کہ پوری قوم مایوسی کا شکار ہے، ہمیں یکجہتی کا کہا جاتا ہے، نیب آرڈیننس ختم کرنے کے لئے کہا جاتا ہے‘ ماضی میں ہم نے جب پارلیمنٹ کی بالادستی اور گھر کے فیصلے گھر کے اندر کرنے کی بات کی تو ہماری بات کسی نے نہیں سنی، بڑے دکھ کی بات ہے کہ پارلیمنٹ کمزور ہو رہی ہے، نیب ڈکٹیٹر کا دیا ہوا قانون ہے، اسے ختم ہونا چاہیے‘ اسی طرح ہم نے (1) 62 ایف بھی ختم کرنے کا کہا تھا، مگر ہماری بات کسی نے نہیں سنی، جب تک ہم گھر کو مضبوط نہیں کریں گے اور اس ایوان سے طاقت نہیں لیں گے تو ایسے ہی ہوگا جیسے آج ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

سیاست دان جب تک پارلیمنٹ کو مضبوط نہیں کریں گے تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب سیاستدان مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں گے تو مسائل حل ہوں گے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ موجودہ اسمبلی نے بھی پانچ سال مکمل کرلئے ہیں۔ حکومت کے پاس ایک سال کا بجٹ دینے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ یہ عوامی امنگوں کا ترجمان بجٹ نہیں ہے، 15 ہزار میں ایک غریب آدمی اپنے گھر کا بجٹ کیسے بنا سکتا ہے۔کم سے کم اجرت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ صوبوں کو نیا این ایف سی ایوارڈ نہ دینا افسوسناک ہے۔ پی ایس ڈی پی میں رقوم چاروں صوبوں کے لئے منصفانہ طور پر مختص کی جائیں۔