برطانیہ، فرانس یا جرمنی پر بھروسہ نہیں، معاہدہ جاری رکھنے سے پہلے ضمانت لیں: خامنہ ای

جمعرات مئی 21:06

تہرا ن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے جوہری معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کر کے ’غلطی‘ کر دی ہے۔آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ’میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں، امریکہ پر بھروسہ نہ کرو۔‘ اپنے ٹی وی خطا ب میں انھوں نے ایرانی حکومت سے کہا کہ وہ اس معاہدے کو جاری رکھنے کے لیے راضی ہونے سے قبل یورپی طاقتوں سے ضمانت لیں۔

گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا تھا کہ وہ اس جوہری معاہدے سے نکل رہے ہیں اور ایران پر سخت پابندیاں لگانے والے ہیں۔تاہم اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک نے کہا ہے کہ وہ اب بھی اس معاہدے میں ہیں اور اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو کچھ شبہات لاحق ہیں انھوں نے کہا ہے کہ وہ ’برطانیہ، فرانس یا جرمنی پر بھروسہ نہیں کرتے، اور اس معاہدے کو جای رکھنے سے قبل ان ممالک سے ضمانت لینے کی ضرورت ہے۔

‘انھوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ سن رہے ہیں کہ آپ اس جوہری معاہدے کو تین یورپی ممالک کے ساتھ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے ان تین ممالک پر اعتماد نہیں ہے۔‘’اگر آپ اس معاہدے کے نتائج چاہتے ہیں تو پہلے حقیقی ضمانت لیں، ورنا کل یہ بھی وہی کریں گے جو امریکہ نے کیا ہے۔‘انھوں نے عالمی رہنماؤں کے حوالے سے کہا کہ ’ان کے الفاظ کی کوئی وقعت نہیں ہے۔‘ایران کے رہبر اعلیٰ نے کہا: ’آج ایک بات کرتے ہیں اور کل دوسری۔ انھیں شرم نہیں آتی۔‘