سندھ بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے غیر معمولی پیکیج کا اعلان،

بنیادی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد اضافہ، ہاؤس رینٹ الاؤنس کی موجودہ رقم 50 فیصد کر دی گئی

جمعرات مئی 23:03

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) سندھ بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے غیر معمولی پیکیج کا اعلان، بنیادی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد اضافہ کر دیا گیا، ہاؤس رینٹ الاؤنس کی موجودہ رقم 50 فیصد کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو یہاں سندھ اسمبلی میں صوبہ سندھ کے بجٹ برائے مالی سال 2018-19ء کی تقریر میں اعلان کیا کہ سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پیشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ ہائوس رینٹ کی موجودہ رقم 50 فیصد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کم سے کم پنشن 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دی گئی ہے، فیملی پینشن 4500 روپے سے بڑھا کر 7500 روپے، 75 سال سے زائد پینشنرز کی کم سے کم پینشن 15 ہزار روپے ہو گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسٹاف کار ڈرائیورز اور ڈسپیچ رائیڈرز کا اوور ٹائم الاؤنس کام والے دنوں میں 40 روپے سے بڑھا کر 80 روپے فی گھنٹہ اور چھٹی والے دن 100 روپے فی گھنٹہ کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ویکسی نیٹرز کو 4 ہزار روپے خصوصی الاؤنس دیا جائے گا، نرس اسٹوڈنٹس کے مشاہرے کو 6860 روپے سے بڑھا کر 15880 روپے کر دیا گیا ہے، دور دراز کے علاقوں خصوصاً ضلع تھرپارکر میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا ہارڈ ایریا الاؤنس 10 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 40ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ملازمین کو ان کی بنیادی تنخواہ کا 50 فیصد کا ماہانہ ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں کام کرنے والے تمام فارما سسٹ کو ان کی موجودہ بنیادی تنخواہ کے مطابق ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہید پولیس افسروں اور اہلکاروں کے ورثا کو معاوضے کی رقم 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے، شہداء کے ورثا کو ایک پلاٹ اور ایک نوکری بھی دی جائے گی جبکہ مستقل معذور ہونے والے پولیس اہلکاروں کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا اور عارضی معذوری کا شکار پولیس افسروں اور اہلکاروں کا معاوضہ 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیوٹی کے دوران حادثے کا شکار ہونے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا، محکمہ قانون میں پینل ایڈووکیٹ کی فیس ہزار روپے سے بڑھا کر 5 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر میں کام کرنے والے اہلکاروں کی مراعات میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے، اسی طرح سندھ ایجوکیشن کمیشن میں کام کرنے والے گریڈ 1 سے 20 تک کے افسروں و اہلکاروں کے خصوصی الاؤنس میں بھی 12 ہزار روپے سے ایک لاکھ 75 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ سول سروس اکیڈمی میں کام کرنے والے گریڈ 1 سے گریڈ 20 تک کے افسروں و ملازمین کے خصوصی الاؤنس میں بھی 12 ہزار سے ایک لاکھ 75 ہزار روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ دوران ملازمت انتقال کر جانے والے سول سرونٹس کے اہلخانہ کی مالی معاونت میں 3 گنا اضافہ کیا گیا ہے اور صوبائی محتسب کے دفتر میں کام کرنے والے ریگولر ملازمین کو 4 ہزار سے 60 ہزار روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔