امریکا کی جوہری معاہدے سے دستبرداری ترکی کے لیے ایک ‘موقع’ ہے، ترکی

ترکی کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہوں اور میں ایران کے ساتھ تجارت کو جاری رکھوں گا’، وزیر تجارت نے نیہات زیبکجی نے ایران سے تجارت کم کرنے کے تاثر کو رد کردیا ترک صدر رجب طیب اردگان نے روسی صدر سے فون پر گفتگو میں امریکی فیصلے کو غلط قراردیدیا

جمعہ مئی 23:08

انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ترکی کے وزیر تجارت نے ایران سے تجارت کم کرنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جوہری معاہدے سے دستبرداری ترکی کے لیے ایک ‘موقع’ ہے۔ترک وزیرنیہات زیبکجی کا کہنا تھا کہ ‘میں اس کو ترکی کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہوں اور میں ایران کے ساتھ تجارت کو جاری رکھوں گا’۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کی جانب سے ایران کے حوالے سے جوہری سرگرمیوں اور دیگر معاملات پر کوئی فیصلے آتاہے تو ان کے ساتھ تجارت کو ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے ہی ان کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے احتجاج اور منانے کی کوششوں کے باوجود ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبر دار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

(جاری ہے)

ٹرمپ نے معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردگان نے روسی صدر ویلادیمیرپیوٹن سے فون پر معاملے پر گفت شنید کی اور دونوں رہنماوں نے اس فیصلے کو امریکا کی غلطی قرار دیا۔

نیہات زیبکجی نے امریکا کے یک طرفہ فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے اس وقت بڑی پریشانی نظر نہیں آرہی ہے’ کیونکہ امریکا کے علاوہ یورپین یونین میں شامل ممالک اس فیصلے میں ان کے ساتھ نہیں ہیں۔واضح رہے کہ ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات رواں سال جنوری میں ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے والے ترک بینکر کو سزا دینے سمیت دیگر کئی مسائل کے باعث کشیدہ ہیں۔امریکا نے 2016 میں ترک بینکر مہمیت حاکا عطیلہ کو ایرانی نڑاد کاروباری شخصیت رضا زریاب سے تعلق پر گرفتار کیا تھا جنھوں نے امریکا کی ایران پر پابندی کو تبدیل کرنے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔۔