چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ، 13جوڈیشل افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی ختم ہونے پر بطور (آن سپیشل ڈیوٹی) تعیناتی کے نوٹیفکیشنز جاری

اتوار مئی 18:50

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمدیاور علی نے 13جوڈیشل افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی ختم ہونے پر بطور (آن سپیشل ڈیوٹی)ان کی تعیناتی کے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں مذکورہ افسران پر اقربا پروری ، رشوت خوری اور بری شہرت کے الزامات تھے جن میں 1ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ،1سینئر سول ، 4ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اور7سول جج شامل تھے دریں اثنا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اینٹی کرپشن فیصل آباد اور سرگودھا کی خصوصی عدالتوں کے جج رانا آفتاب احمد خان اور محمد سعید اللہ کو ان کی عمر کی زیادتی پر(پیرانہ سالی)پنشن دینے کا حکم دے دیا ہے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد یاور علی نے پنجاب بھر اقربا پروری ، رشوت خوری اور بری شہرت رکھنے پر 12افسران کوعارضی طور پر معطل کر کے محکمانہ تحقیقات اور کاروائی کاحکم دیا تھا تاہم کاروائی مکمل ہونے اور مذکورہ افسران کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے پر ان کی بحالی کا حکم دیا گیا جس پر رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ بہادر علی خان کے جاری الگ الگ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد مسرور زمان کو پریذائڈنگ افسر، پنجاب لیبر کورٹ گوجرانوالہ ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فیصل آباد اسرار دازہ کو نارووال ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑیمحمد حفیظ الرحمان خان کو لاہور ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور عبدالستار کو لوہار ہائی کورٹ،، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سمبڑیال کو لاہور ہائی کورٹ اسی طرح سول جج ندیم عباس ساقی کو ووارننگ دے کر گوجرہ ، سول جج قصورشوار امین واگہ کو پیرمحل، سول جج مظفر گڑھ محمد امین کو لیاقت پور، سول جج محمد شاہد حسن کو پیپلاں ، سول جج لاہور وقار احمد کو تونسہ شریف ، سول جج جڑوانولہ محمد عبدالرفیق کو گجرات ، سینئر سول جج رحیم یار خان کو ترقی دے کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان میں تعینات کر دیاگیا ہے۔