غیرملکی خبررساں اداروں کے سربراہان اورنمائندوں نے اے پی پی کے زیراہتمام نیوزایجنسیز کی بین الاقوامی کانفرنس کو سنجیدہ اوربروقت کاوش قراردے دیا

خبررساں اداروں کے کردار کو ڈیجیٹل دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اشد ضروری ہے،میڈیا کی طاقت کو دستیاب ٹیکنالوجیز کو بروئے کارلاکر انسانی ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکتاہے باہمی تعاون سے حقائق پرمبنی خبروں کی فراہمی ، ان اداروں کے مستقبل پربھی خوش آئند اثرات مرتب ہوں گے اے پی پی کے زیراہتمام بین الاقوامی خبررساں اداروں کی کانفرنس سے غیرملکی خبررساں اداروں کے سربراہان اورنمائندوں کا خطاب

اتوار مئی 22:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) غیرملکی خبررساں اداروں کے سربراہان اورنمائندوں نے اے پی پی کے زیراہتمام نیوزایجنسیز کی بین الاقوامی کانفرنس کو سنجیدہ اوربروقت کاوش قراردیتے ہوئے کہاہے کہ خبررساں اداروں کے کردار کو ڈیجیٹل دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اشد ضروری ہے،میڈیا کی طاقت کو دستیاب ٹیکنالوجیز کوموثرانداز میں بروئے کارلاکر انسانی ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکتاہے،باہمی تعاون سے نہ صرف حقائق پرمبنی خبروں کی فراہمی بلکہ ان اداروں کے مستقبل پربھی خوش آئند اثرات مرتب ہوں گے ۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے قومی خبررساں ادارہ اے پی پی کے زیراہتمام بین الاقوامی خبررساں اداروں کی دوروزہ کانفرنس کے پہلے روز کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیاجس کاموضوع ’’ڈیجیٹل دورمیں خبررساں اداروں کا کرداراورباہمی تعاون‘‘ تھا، اس نشست کی صدارت سابق وفاقی وزیراطلاعات جاویدجبارنے کی۔

(جاری ہے)

ایران کے قومی خبررساں ادارہ ارنا کے ایڈیٹرانچیف فردین پازوکی نے خطاب کرتے ہوئے قیام پاکستان کے 70برس مکمل ہونے پرپاکستان کی حکومت اورعوام کومبارکباد دی ۔

انہوں نے کہاکہ انسانیت اورامن پسنداقوام کے دشمنوں کی جانب سے منفی پراپیگینڈہ کے دورمیں ترقی پذیربالخصوص مسلمان ممالک کے درمیان میڈیا اورابلاغ عامہ کے شعبوں میں تعاون ناگزیز ہے۔انہوں نے کہاکہ خبررساں اداروں کیلئے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے متعلق اے پی پی کی یہ بین الاقوامی کانفرنس سنجیدہ اوربروقت کوشش ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے،انہوں نے ارنا کے مینجنگ ڈائریکٹر سیدضیاء ہاشمی، ڈائریکٹرز اورعملہ کی جانب سے قیام پاکستان کے 70برس مکمل ہونے پر کانفرنس کے ا نعقاد پر اے پی پی کومبارکباد کا پیغام بھی دیا۔

انہوں نے کہاکہ نامساعد ماحول میں صحافیوں کا تحفظ اور ڈٖیجیٹل دورمیں نیوزایجنسیوں کا بدلتا ہواکردار اس کانفرنس میں شریک ممالک کے مندوبین کا موضوع ہونا چاہئیے،بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصہ میں افغانستان سمیت کئی ممالک میں صحافی پیشہ وارانہ کرداراداکرنے کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں، صحافیوں کاتحفظ ایک اہم ایشوہے، اس کے ساتھ ساتھ نیوزایجنسیوں کے کردار کو ڈیجیٹل دورکے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے ، اس ضمن میں قومی خبررساں اداروں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون سے نہ صرف حقایق پرمبی خبروں کی فراہمی ممکن ہوسکے گی بلکہ ان اداروں کے مستقبل کیلئے بھی یہ بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ان کاادارہ اس ضمن میں ہرطرح کاکرداراداکرنے کیلئے تیارہے،لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کی ڈائریکٹر لارے سلیمان نے اپنے خطاب میں پاکستان کی 70سالہ تقریبات کے سلسلے میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی جانب سے خبر رساں اداروں کی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ یہ نیوز ایجنسیز کے مابین تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں نہایت اہم اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کا میڈیا کی طاقت پر یقین ہے، ہمارا بنیادی مقصد دستیاب ٹیکنالوجیز کو اس سطح پر لے جانا ہونا چاہئے جو انسانی ترقی کو یقینی بنائے ۔انہوں نے کہا کہ ڈیجٹیل انفارمیشن تک رسائی ایک ضرورت بن چکی ہے، موجودہ دور میں روایتی صحافت بتدریج ڈیجٹیل جرنلزم میں تبدیل ہو رہی ہے اس تناظر میں این این اے جدید دور کی ڈیجیٹل ایوولوشن کے ساتھ ہم آہنگی کیلئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں جدید ترین ٹیکنالوجیز اپنائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کانفرنس کے شاندار انتظام پر اے پی پی منتظمین کو مبارکباد دی اور پاکستان کی آزادی کی 70سالہ تقریبات کے حوالے سے نیک تمنائوں کا اظہار بھی کیا۔۔سعودی عرب سے یونین آف او آئی سی نیوز ایجنسیز کے ڈائریکٹر جنرل کے نمائندہ الصادق بشیر ہارون نے اپنے خطاب میں پاکستان کی 70 سالہ تقریبات کے سلسلہ میں حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ترقی، استحکام اور خوشحالی کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامک نیوز ایجنسی کے یونین آف نیوز ایجنسز آف او آئی سی میں تبدیلی کے بعد اے پی پی کی جانب سے دنیا بھر کی نیوز ایجنسیوں کی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بہت اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نیوز ایجنسیوں کو پروفیشنلزم اور خبروں کے مصدقہ ہونے سے متعلق پرعزم رہتے ہوئے مواصلات اور خبروں کے تبادلے کے طریقوں میں ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار سے ہم آہنگی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اے پی پی کی جانب سے اس اہم کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔