ایشین بینک کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں سرمایہ کاری بڑھانے پر غور

پاکستان میں پی پی پی میں سالانہ 20 ارب ڈالر کی طلب ہے،اے ڈی بی

منگل مئی 20:42

ایشین بینک کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں سرمایہ کاری بڑھانے پر غور
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عندیہ دے دیا۔اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں پی پی پی میں سالانہ 20 ارب ڈالر کی طلب ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ حکومت نے اگلے مالی سال 19-2018 کے بجٹ میں 100 ارب روپے مختص کیے تاہم اضافی وسائل کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پورے کیے جانے کا امکان ظاہر کیا۔

ملک میں انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی طلب اور نجی شعبوں کو درکار وسائل کو پورا کرنے کے لیے ایشین بینک اور حکومت پاکستان نے ‘نئی حکمت عملی پر غور و بچار پر آمادگی کا اظہار کیا جس میں اے ڈی بی کی سرمایہ کاری کا معاملہ بھی شامل ہے’۔اے ڈی بی کا تین روزہ مشاورتی اجلاس جاری ہے جس میں اگلے تین برسوں کی منصوبہ بندی اور پاکستان میں پی پی پی کے امور زیر بحث ہیں، اس بارے میں بتایا گیا کہ حکومتی حکام، اقتصادی ماہرین، وفاقی اور چاروں صوبوں سے اقتصادی منصوبہ ساز اور اے ڈی بی کے اعلیٰ حکام پر مشتمل 100 سے زیادہ وفد شریک کریں گے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ مشاورتی اجلاس میں اے ڈی بی کی جانب سے ‘کنٹری آپریشن بزنس پلان 21-2019’ کے تحت نئے منصوبے اور زیر تعمیر منصوبے زیر غور ہیں۔۔پاکستان میں اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ڑی ہونگ یانگ اور اے ڈی بی میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ڈائریکٹر تاکیو کوایکی نے پاکستان میں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں مالی و تکنیکی مدد اور تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

کنٹری ڈائریکٹر ڑی ہونگ یانگ نے زور دیا کہ شراکت داروں اور اے ڈی بی کے مابین رابطہ کاری اور مشاورت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت مزید پرکشش سرمایہ کاری کی جا سکے اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کا مناسب حل نکلا جا سکے۔بینک کے مطابق ‘بینک کی امداد نے پاکستان کے سماجی واقتصادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے، ماحولیاتی پہلو کو ترقیاتی عمل اور منصوبوں کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ابالغ عامہ اور شراکت داروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے’۔

برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) میں محکمہ اکنامکس گروتھ گروپ کے سربراہ پیٹریکا سیکس نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔اے ڈی بی نے بتایا کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر کی جانب پبلک سرمایہ کاری کے رحجانات میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے تناظر میں ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں سالانہ 7.6 فیصد سرمایہ کاری کرنے کی گنجائش ہے۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان کو اہم انفراسٹرکچر پر سالانہ 20 ارب ڈالر کی خطیر رقم لگانے کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں نجی بینکوں کی جانب سے 2016 میں آؤٹ اسٹینڈنگ انفراسٹرکچر میں صرف 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جس میں زیادہ تر توانائی کے شعبے میں تھی۔کنٹری ڈائریکٹر نے بتایا کہ ‘پاکستان میں منصوبے پر سرمایہ کاری کے لیے چند کمرشمل بینک ہی معاونت دیتے ہیں جس کا کپیٹل مارکیٹ یا فنانشنل انسٹی ٹیوشن میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث سرمایہ کا حصول انتہائی مشکل ہوتا ہے’۔

بے ڈی بی کی کنٹر ڈائریکٹر نے سندھ اور پنجاب حکومت کی خدمات کو سراہاتے ہوئے کہا کہ وہ پرائیوٹ سیکٹر کے لیے انفرانسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔