اوتلہ ڈیم کی تعمیر سے گدون کے 45دیہاتوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو جائے گی ،سپیکر خیبرپختونخوااسمبلی اسد قیصر

منگل مئی 23:46

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سپیکر خیبرپختونخوااسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اوتلہ ڈیم کی تعمیر سے گدون کے 45دیہاتوں میں رہائش پذیر تقریباًڈیڑھ لاکھ کی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو جائے گی ۔ انہوںنے ان خیالات کا اظہارصوبائی اسمبلی کے کانفرنس روم میںضلع صوابی کے علاقہ گدون میں اوتلہ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔

اجلاس میں چیف کنزر ویٹرفارسٹ ،چیف انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئر ،ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز،ڈائریکٹر جنرل ماحولیات ،سینئر انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مردان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی ۔سپیکر نے کہا کہ اوتلہ ڈیم کی تعمیر ان کی ترجیحات میں شامل ہے ، گدون کے دشوار علاقوں میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی سخت قلت کا سامنا کر نا پڑرہا ہے ۔

(جاری ہے)

اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری حکام عوام کی مشکلات کے پیش نظر مذکورہ پینے کے پانی کے پراجیکٹ کی تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو جلد ازجلد دورکریں ۔اجلاس کے دوران چیف کنزرویٹر فارسٹ صدیق خان نے کہا کہ وہ اصولی طور پر مذکورہ پراجیکٹ کی تعمیر کے حق میں ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انہوںنے تجویز دی کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو سائٹ کا دورہ کرکے معلوم حاصل کرے کہ مذکورہ پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے کتنا قطعہ اراضی درکار ہوگا تاکہ پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے این اوسی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جاسکیں ۔

سپیکر نے چیف کنزرویٹر فارسٹ ،ڈائریکٹر جنرل ماحولیات اور ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمزکو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بالا سرکاری حکام آپس میں مل بیٹھ کر مشاورت کریں اور ایک واضح لائحہ عمل طے کریں تاکہ مذکورہ پینے کے پانی کے پراجیکٹ پر تعمیراتی کام جلد ازجلد شروع کیا جاسکے۔سپیکرنے کہا کہ اوتلہ ڈیم مفاد عامہ کا ایک بہترین پراجیکٹ ہے جس کی تکمیل سے گدون کے متعلقہ حکام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائے گا اور ایک بہت بڑی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر ہو جائے گی ۔

سپیکرنے کہا کہ مذکورہ بالا عوام بھی پاکستانی ہیں اور ہمارے صوبے کے باشندے ہیں اور بنیادی ضروریات کا حصول ان کا بنیادی حق ہے ۔لہٰذا عوامی نمائندوں اور سرکاری حکام کا فرض اولین ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنے تمام تروسائل بروئے کارلائیں ۔

متعلقہ عنوان :