امریکا نے ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ پر پابندیاں عائد کر دیں

بدھ مئی 10:40

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) امریکا نے لبنان کے عسکری گروپ حزب اللہ کی مدد کے لئے لاکھوں ڈالر جاری کرنے کے خلاف ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ ولی اللہ سیف پر پابندیاں عائد کر دیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے پاسداران انقلاب کے نام پر خفیہ طریقے سے لاکھوں ڈالر عراق میں قائم البلاد اسلامک بینک کے ذریعے بھجوا ئے تاکہ حزب اللہ کے پرتشدد ایجنڈے کو مدد فراہم کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا، ایران کے ہاتھوں بین الاقوامی مالیاتی نظام کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔امریکا نے ایران کے مرکزی بینک کے بین الاقوامی شعبے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر علی تارزالی اور البلاد اسلامک بینک کے چیئرمین اراس حبیب کو بھی بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

سٹیون منوچن نے کہا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے ذریعے پاسداران انقلاب سے منسلک ترسیل زر کے نیٹ ورک سے تشدد کے لیے لاکھوں ڈالر بھیجے جانے کے بعد یہ امریکی اقدام بینکاری نیٹ ورک سے ایران کے رابطے کاٹ دے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات صدر ٹرمپ کے 8 مئی کے اس فیصلے کے تحت مشترکہ جامع پلان آف ایکشن میں امریکا کو حصہ لینے اور ان پابندیوں کے دوبارہ نفاذ میں آسانی پیدا کرنے کے لئے کئے گئے ہیں۔