الیچی کی زیادہ سے زیادہ کاشت کر کے قیمتی زر مبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے،زرعی ماہرین

بدھ مئی 17:55

فیصل آباد۔16 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ الیچی ایک انتہائی اہم اور نقد آور فصل ہے جس کا پھل نہا یت میٹھا اور لذیذ ہونے کے علاوہ عوام میں بے حد پسند کیا جاتا ہے تاہم اس کی نگہداشت کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اسے معمول کے باغات اور پھلوں سے ہٹ کر کئی گنا زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے باغبان الیچی کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے پانی کی کمی نہ آنے دیں اور اگر بارشیں نہ ہوں تو درختوں پر دن میں کم از کم 2مرتبہ مصنوعی بارش برسانے کا بھی اہتمام کریں تاکہ الیچی کے پودوں کی پانی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔

ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتا یا کہ الیچی کا پھل زیادہ تر جنوبی پنجاب کے گرم علاقوں میں بہتر انداز میں نشو ونما پاتا ہے جس کو ٹہنی کے ساتھ قلم کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتا یا کہ اگر الیچی کی زیادہ سے زیادہ کاشت کیلئے اقدامات کئے جائیں تو اس نقد آور پھل کو برآمد کر کے قیمتی زر مبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ امر بھی دلچسپی کا حامل ہے کہ اگرچہ الیچی کا پھل گرم تاثیر رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے گرمیوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیچی کی 4اقسام گولا، کلکتی ، بے دانہ ،بمبے کم کاشت ہونے کے باعث مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔انہوںنے بتایا کہ الیچی کا ایک درخت اوسطاً 2سے 4من پھل کی پیداوار دیتا ہے جو مارکیٹ میں 250سے 300روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے اس طرح ایک ایکڑ سے باغبان کم از کم 2لاکھ روپیہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں ۔انہوںنے بتا یاکہ اس ضمن میں مزید معلومات کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

متعلقہ عنوان :