ادارے کے استحکام اور اسے مضبوط بنانے کے لئے ٹیم ورک کی طرح کام ضروری ہے ، ڈاکٹر سید سیف الرحمن

میری کوشش ہوگی ہم سب ملکر ادارے کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں ہمیں پوری ایمانداری اور امید کے ساتھ کام کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا، میونسپل کمشنر

جمعرات مئی 17:51

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا ہے کہ ادارے کے استحکام اور اسے مضبوط بنانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ٹیم ورک کی طرح کام کریں ، میری کوشش ہوگی کہ ہم سب ملکر ادارے کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں ہمیں پوری ایمانداری اور امید کے ساتھ کام کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے ریونیو کی صورتحال کو بہتر بنائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ فنانس سے متعلق افسران نے شرکت کی جن میں سینئر ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس ریحان خان، محمود بیگ، ناصر محمود، عبدالجبار، ریحانہ پروین، شمس الدین ، ریاض کھتری ، ڈائریکٹر اسٹور مظہر خان اور دیگر شامل تھے، اجلاس میں بتایا گیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تقریباً ساڑھے 13ہزار ملازمین اور تقریباً ایک ہزار کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے لئے ہر ماہ تقریباً 600 ملین روپے درکار ہوتے ہیں جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے OZT کی مد میں 1509.14 ملین روپے ، گرانٹ کی مد میں 300 ملین روپے اور اسپیشل گرانٹ کی مد میں 130 ملین روپے ملتے ہیں جبکہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں ہر ماہ تقریباً 8 کروڑ روپے کا شارٹ فال ہے، اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ فنانس کا تمام دفتری کام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہے جبکہ چیک جاری کئے جانے کے عمل کو بھی مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ رکھا گیا ہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میونسپل کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے ریکوری کی صورتحال کو بہتر بنائیں ،بالخصوص محکمہ اسٹیٹ ، کچی آبادی، چارجڈ پارکنگ، لینڈ، پی ڈی اورنگی اور MUCT اپنی ریکوری کے اہداف مکمل طورپر حاصل کرنے پر توجہ دیں تاکہ ادارے کو اس سے فائدہ پہنچے، انہوں نے کہا کہ کام کوئی بھی مشکل نہیں ہوتا صرف اور صرف اپنے کام کو مکمل توجہ اور ایک جذبے کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آسکیں، انہوں نے کہا کہ میئر کراچی کی واضح ہدایات ہیں کہ ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن بروقت ادا کی جائیں

متعلقہ عنوان :