حیدرآباد میں خاتون کے قتل کا معمہ حل ہو گیا

جمعہ مئی 21:03

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) حیدرآباد میں خاتون کے قتل کا معمہ حل ہو گیا ، قرضہ نہ دینے پر نند نے بھابی کے ٹکڑے ٹکڑے کردایئے،13مئی کو پولیس کو ایک خاتون مسماة حنا کی گمشدگی کی رپورٹ ملی جبکہ15مئی کو پنیاری نہر پھلیلی سے ایک خاتون کا سر تن سے جدا پڑا ہوا ملا جس کی شناخت بعدازاں حنا زوجہ عدنان لودھی کے نام سے ہی ہو ئی ہے، پولیس نے مقتولہ کے شوہر عدنان لودھی کو حراست میں لیا ، تفتیش سے معلوم ہوا کہ ادھار رقم نہ دینے پر درندہ صفت نند نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر بھابھی کو تیز دھار آلہ سے ٹکڑے کرکے قتل کردیا جبکہ جسم کے ٹکڑوں کو نہر میں پھینک دیا پولیس نے دو نوں ملزمان کو گرفتار کرلیا ایس ایس پی حیدرآباد پیر محمد شاہ نے پولیس ہیڈکوارٹرمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ 15 مئی کو پنیاری نہر سے علاقہ مکینوں کو ایک خاتون کا سر ملا تھا جسکے بعد پولیس نے پہنچ کر سر کو تحویل میں لیا اور تفتیش شروع کی اور انسانی سر میں کانوں میں پہنی ہوئی سونے کی بالیوں سے شناخت کی گئی تو انسانی سر مسماة حنا لودھی کا تھا جو کہ بلدیہ کے علاقہ سے لاپتہ تھی جسکے بعد پولیس نے تفتیش شروع کی حنا کے شوہر عدنان کو حراست میں لیا اور اسکے بعد حنا کی نندرخسانہ اور اسکے شوہر منصب لودھی کو گرفتار کیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے تفتیش پر قتل کا اعتراف بھی کیا رخسانہ کا اکثر اپنی بھابھی حنا سے جھگڑا رہتا تھا اور تاہم ایک روز رخسانہ نے اپنے شوہر منصب لودھی کے ساتھ مل کر حنا کو تیز دھار آلہ سے قتل کروادیا اور جسم کے آٹھ ٹکڑے کرواکر تین مختلف مقامات پر پھینکوادئیے گئے ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے بتایا کہ ملزم منصب لودھی نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے اور کہاکہ اس نے مقتولہ سے بیس ہزار روپے ادھار رقم بھی طلب کی تھی اور رقم نہ دینے پر یہ تنازعہ پیدا ہوا تھا معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ کو منصب نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی تھی مزید تفتیش بھی جاری ہے ایس ایس پی نے بتایا کہ حنا کی ایک سال قبل ہی عدنان لودھی سے شادی ہوئی تھی دونوں میں میاں بیوی میں کوئی جھگڑا نہیں تھا مقتولہ کے والد کے مطابق وہ قتل ہو نے سے کچھ دن قبل ان کے چیمبڑ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر آئے تھے اور واپس گھر پہنچ کر حنا نے خیریت کا پیغام بھی موبائل سے بھیجا تھا تاہم عدنان موٹر سائیکل کا مکینک ہے اور اسکی کھانوٹ ضلع جام شورو میں دکان ہے وہ گھر سے دور ہو تا ہے اس لیے واردات کرنے والوں کو آسانی ہو ئی ۔