امریکا کی شام میں ترجیحات متعین، شمالی علاقے سے امداد واپس لینے کا فیصلہ

اتوار مئی 12:50

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شمال مغربی شام میں اسلامی گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے اپنی کمک اور امداد واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ العربیہ ٹی وی نے امریکی ذمہ دار حلقوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ اب اپنی توجہ اٴْن علاقوں کی تعمیرِ نو پر مرکوز کرنا چاہتی ہے جو امریکا کے زیر قیادت فورسز نے ملک کے شمال مغرب میں داعش تنظیم سے واپس لیے تھے۔

(جاری ہے)

یہ خبر پہلی مرتبہ امریکی الیکٹرانک میڈیا پر آئی جس میں بتایا گیا کہ امریکی انتظامیہ اٴْن مختلف سرگرمیوں کے سلسلے میں کروڑوں ڈالروں کی کمی کرے گی جن کی واشنگٹن کی جانب سے امداد کی جا رہی تھی۔ ان سرگرمیوں میں پر تشدد انتہا پسندی پر روک لگانا، آزاد تنظیموں اور خود مختار ذرائع ابلاغ کی حمایت کرنا اور تعلیم کی معاونت شامل تھی۔ مذکورہ نیوز نیٹ ورک کے مطابق یہ فیصلہ صدر گزشتہ چند ہفتوں کے دوران صدر ٹرمپ کے اٴْس مطالبے کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے شام کے لیے امریکا کی ہر قسم کی امداد کا جائزہ لینے کو کہا تھا۔سی بی ایس نیٹ ورک نے واضح کیا کہ شام کے شمال مغربی علاقے میں طویل المیعاد بنیادوں پر امریکا کی امداد کو بڑی حد تک غیر مؤثر شمار کیا جا رہا ہے۔