بھارت؛حکمران جماعت کو بڑا سیاسی دھچکا،3 دن میں کرناٹک وزیراعلیٰ عہدے سے مستفعی

اتوار مئی 19:20

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگ گیا،کرناٹک کے ریاستی انتخابات میں بڑی جماعت بن کر ابھرنے والی بی جے پی کے نو منتخب وزیراعلیٰ بی ایس یدیورپا نے 3دن بعد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 222 میں سے 104 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ اپوزیشن جماعت کانگریس78 اور جنتا دل 36 نشستوں پر کامیاب رہی۔

گورنر نے اکثریتی جماعت کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی جس پر بی جے پی نے وزارت اعلیٰ کیلئے بی ایس یدیورپا کواپنا امید وار بنایا۔انہوں نے اپنے عہدے کاحلف بھی اٹھالیا تھا۔ریاستی اسمبلی کی 224 میں سے 222 نشستوں پر الیکشن ہوئے جبکہ 221 امیدوار کامیاب ہوکر اسمبلی میں پہنچے۔

(جاری ہے)

جنتادل کے ایچ ڈی کمارسوامی دو نشستوں پر فاتح قرار پائے،انہیں ان میں سے ایک نشست چھوڑنا پڑے گی جس کے بعد چند روز میں ریاستی اسمبلی کی3 نشستوں پر الیکشن ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ بی ایس یدیورپا کیلئے عدم اعتماد کے ووٹ کی اجازت اس لئے دی کہ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے عدالت کو بتایا کہ بی جے پی کو اسمبلی میں درکار آئینی حمایت حاصل نہیں ہے۔بی ایس یدیورپا نے آج اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنا تھی لیکن پولنگ کے آغاز سے قبل ہی انہوں نے استعفیٰ کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ ریاستی اسمبلی میں اکثریت ثابت نہیں کرپائیں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کوریاستی اسمبلی میں104نشستیں ملی ہیں لیکن اسے اقتدار پر مسند پر براجمان رہنے کیلئے 112 نشستوں کی تعداد دکھانی تھی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیراعلیٰ کے استعفیٰ دینے کے بعد قومی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کانگریس اور جنتا دل کی اتحادی حکومت اقتدار کے مسند پر براجمان ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں شکست کانگریس کیلئے ایک بہت بڑی ہار ہوتی کیونکہ اس وقت ملک بھر کی 29 ریاستوں میں سے کانگریس کی حکومت صرف تین ریاستوں میں ہے جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادی 21 ریاستوں میں برسرِاقتدار ہیں۔