اصلاحات کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لانا ہے‘اورنگزیب ایڈووکیٹ

پیر مئی 14:23

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) قومی سلامتی کمیٹی سے منظوری کے بعد گلگت بلتستان آرڈر2018ء کا باقاعدہ نفاذ کردیا گیا۔ اس بات کا اعلان صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ اور صوبائی مشیر اطلاعات شمس میر نے گلگت میں پریس کانفرنس کے میں کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ اور مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقامی سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے تمام آل پارٹیز کانفرنس کی روشنی میں سفارشات پر مبنی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

اصلاحات کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لانا اور دیگر صوبوں کو ملنے والے حقوق تک رسائی دینا ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاسی مخالفین نے سوشل میڈیا میں اڑنے والے جعلی دستاویزات کو بنیاد بناکر عوام کو غلط راہ دکھانے کی کوشش کی جن کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔

(جاری ہے)

گلگت بلتستان 2018ء آرڈر میں عدلیہ،مقننہ اور انتظامی سطح پر اصلاحات متعارف کرائے گئے ہیں جو گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی ضرورت تھی۔

گلگت بلتستان آرڈر 2018ء میں گلگت بلتستان کے شہریوں کو تمام بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے گزشتہ امپاورمنٹ آرڈر میں صرف 17بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی اور ان کا دائرہ اختیار صرف گلگت بلتستان تک محدود تھا۔ موجودہ آرڈر 2018ء کی روشنی میں گلگت بلتستان کا کوئی بھی شہری ملک کے کسی بھی کونے میں اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرسکتا ہے اور مقامی شہریوں کو پاکستان کی تمام اعلیٰ عدالتوں تک رسائی مل چکی ہے۔