ملکی زرمبا دلہ کے ذخائر 17کروڑ ڈالر کی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں،میاں زاہد حسین

TFکے خطرات سے نمٹنے کیلئے تا حال کوئی حکمت عملی اپنائی نہیں گئی ،صدر کراچی انڈسٹریل الائنس

پیر مئی 19:10

ملکی زرمبا دلہ کے ذخائر 17کروڑ ڈالر کی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں،میاں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے حکومت سے ہنگامی بنیادو ں پر ملک کو درپیش معا شی خطرات پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں ہر ہفتے قرضوں پر سود کی مد میں 20کروڑ ڈالر کی کمی ہورہی ہے اور موجود ہ ملکی زرمبا دلہ کے ذخائر 17کروڑ ڈالر کی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ بظاہر موڈیز نے پاکستان کے لئے کریڈٹ ریٹنگ B3برقرار رکھی ہے لیکن مستقبل قریب کے معاشی خدشات اور سیاسی صورتحال کی ابتری کی وا ضح نشاندہی کردی ہے جو ہماے حکمرانوں اور خصوصا وفاقی وزیر خزانہ کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے ۔

(جاری ہے)

میاں ز اہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موڈیز کی جاری کردہ رپورٹ ڈھائی ماہ کے ذر مبادلہ کے ذخائر کی سطح ڈھائی ماہ کے درآمدی بلوں کی ادائیگی تک محدود رہنے کی نشاندہی کرتی ہے ۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ نگراں حکومت سے قبل بجٹ میںنظر اندا ز کئے جا نے والے سیکٹرز کو ریلیف دینے کا اعلان کیا جا ئے ۔میاں زاہد حسین نے وفاقی وز یر خزانہ مفتا ح اسمعیل سے اپیل کی ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور معاشی مفاد میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو مزید ریلیف اور ریفنڈ جا ری کئے جائیں ۔ انھوں نے کہا کہ کم از کم 50ارب روپے کے ریفنڈز کے اجرا ء سے اس شعبے کو آکسیجن ملے گی ۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ جون میں FATFکے خطرات سے نمٹنے کیلئے تا حال کوئی حکمت عملی اپنائی نہیں گئی ، حکومت کو چاہئے کہ FATFکے ٹائم فریم کے اندر مطلوبہ اقدامات اُٹھائے اور قوم اور بز نس کمیونٹی کو اعتماد میں لے تا کہ پاکستان ذمہ دار ملک ہونے کا امیج برقرار رکھ سکے ۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ بعض ممالک پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا نہیں چاہتے لہذا حکومت نگراں سیٹ اپ اور عام انتخابات سے قبل معاشی سمت کا فوری تعین کرے ۔