عراق،فوجی عدالت کا 10منٹ کی سماعت پر سزائے موت کا حکم

ملزم پر60 کم عمر لڑکوں کوداعش میں بھرتی اور جنگی تربیت دینے کا الزام عائد تھا

بدھ مئی 22:29

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) عراقی فوجی عدالت نے 10منٹ کی سماعت پر سزائے موت کا حکم سنا دیا، ملزم پر 60 کم عمر لڑکوں کوداعش میں بھرتی کرنے اور جنگی تربیت دینے کا الزام عاید تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کی ایک فوجی عدالت نے شدت پسند گروپ داعش میں بھرتی ہونے والے مراکشی نژاد بیلجین شدت پسند طارق جدعون المعروف ابو حمزہ بیلجینی کو صرف دس منٹ کی سماعت کے دوران سزائے موت کا حکم دے دیا۔

ابو حمزہ سنہ 2014 میں داعش میں شامل ہوا تھا اور اسے چندہ ماہ قبل عراق میں داعش کے خلاف آپریشن میں حراست میں لیا گیا۔بیلجین دہشت گرد خود بھی فیصلہ سنائے جانے کے وقت کمرہ عدالت میں موجود تھا۔ عدالت نے ملزم کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں قصور وار قرار دیتے ہوئے پھانسی دینے کا حکم دیا۔

(جاری ہے)

کیس کی کارروائی صرف دس منٹ جاری رہی۔ ملزم کی عدالت میں پیشی سے قبل سر اور داڑھی منڈوا دی گئی تھی۔

اس موقع پر اس نے اپنی بریت کا دفاع کیا اور کہا کہ مجھے گمراہ کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ ابو حمزہ بلجیمی کو متعدد ویڈیوز میں دیکھا گیا جن میں وہ فرانس ار بیلجیم پر حملوں کی دھمکیاں دیتا ہے۔ اس پر 60 لڑکوں جن کی عمریں 8 اور 13 سال کے درمیان تھیں داعش میں بھرتی کرنے اور انہیں جنگی تربیت دینے کا الزام عاید ہے۔ ابو حمزہ شام کے کرد اکثریتی علاقے کوبانی،عین العرب، عراق کے تکریت، نینوی، الرمادی اور کئی دوسرے علاقوں میں لڑائیوں میں پیش پیش رہا ہے۔

ایک ہاون راکٹ حملے میں وہ زخمی بھی ہوگیا تھا۔ابو حمزہ سنہ 2015 کو عراق میں داخل ہوا تو اس کی ایک فوٹیج نے یورپی ملکوں کو بھی خوف میں ڈال دیا تھا۔ اس نے ایک وڈیو میں فرانس اوربیلجیم پرحملوں کی دھمکی دی اور 13 نومبر 2015 کو فرانس میں دہشت گردی کا حملہ کرنے والے عبدالحمید ابو عود کی حمایت کرتیہوئے اس کے نقش قدم پر چلنے کا اعلان کیا تھا۔