بھارتی صحافیوں کے لیے بھارتی انتہا پسندوں پر تنقید مشکل،تشدد کا سامنا

بھارتی صحافی کے آرٹیکل نے مودی دور میں پروان چڑھتی انتہا پسندی کو بے نقاب کردیا ،امریکی میڈیا

جمعرات مئی 13:49

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) بھارت میں صحافیوں کے لیے ہندو انتہا پسندوں پر تنقید اور اقلیتوں سے بدسلوکی کی نشاندہی کرنا دشوار ہوگیا۔۔بھارتی صحافی خواتین کو عصمت دری کی دھمکیاں، اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کی مہم چلا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتاہے، امریکی اخبار کے مطابق بھارتی صحافی کے آرٹیکل نے مودی دور میں پروان چڑھتی انتہا پسندی کو بے نقاب کردیا ۔

تحقیقاتی صحافت سے وابستہ رانا ایوب نے گجرات میں مسلم کش فسادات میں بھارتی وزیراعظم مودی اور دیگر بی جے پی رہنماوں کے کردار پر کتاب لکھی۔ماورائے عدالت قتل،، اقلیتوں اور نچلی ذات کے افراد کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی آشکار کیا، جس پر دیگر کئی خواتین صحافیوں کی طرح رانا ایوب کو بھی کئی سالوں سے کرداری کشی کی منظم مہم کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

سوشل میڈیا پر ان کی بیہودہ جعلی تصاویر پھیلاکر اور عصمت دری کی دھمکیوں کے ذریعے انہیں ڈرایا دھمکایا جارہاہے، خود مودی اوردیگر انتہا پسند رہنما بھی مہم چلانے والے اکاو?نٹس کو فالو کرکے ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہے ہیں۔بنگلور میں گزشتہ سال قتل کی گئی ایڈیٹر گوری لنکیش بھی ہندوانتہاپسند سیاست کی کڑی ناقدتھیں اور انہوں نے رانا ایوب کی کتاب کناڈا زبان میں شائع کی تھی ۔