کاشتکار کپاس کی زیادہ پیداوار کیلئے فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکائوٹنگ کریں، محکمہ زراعت پنجاب

جمعرات مئی 14:52

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) کپاس کے کاشتکار زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکائوٹنگ کریں اور کپا س کے ضرررساں کیڑوں خصوصاًً گلابی سنڈی اور سفید مکھی پر نظر رکھیں، محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق کپاس کو ملکی معیشت میں اہم حیثیت حاصل ہے ، صوبہ پنجاب میں امسال 6.1 ملین ایکڑ کپاس کے زیر کاشت رقبہ سے 10.

(جاری ہے)

5ملین گانٹھ پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ترجمان کے مطابق محکمہ زراعت پنجاب امسال کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے حملہ سے بچانے کیلئے اور ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائیگا، ترجمان نے بتایا کہ اگر کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی اور سفید مکھی کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو تو کاشتکار فصل پر محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ کیڑے مار زہر کا سپرے کریں، کھیلیوں پر کاشت کی صورت میں منظور شدہ بی ٹی اقسام کا بر اترا ہوا بیج 6سے 8کلو گرام فی ایکڑ جبکہ ڈرل سے کاشت کیلئے 8 سے 10کلو گرام بر اترا ہوا بیج فی ایکڑ استعمال کریں، کاشتکار بوائی سے پہلے بیج کو سفارش کردہ زہر لگائیں تاکہ فصل ابتداء میں رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاًً سفید مکھی کے حملہ سے محفوظ رہے، ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ ڈرل سے قطاروں میں کاشت کی گئی کپا س کا قد ڈیڑ ھ سے دو فٹ ہونے پر پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پر مٹی چڑھا کر پٹریاں بنادیں تاکہ پانی کی بچت ہو جبکہ کپاس کے کھیتوں اور کھالوں کے ارد گرد جڑی بوٹیوں کی تلفی یقینی بنائیں ۔

متعلقہ عنوان :