لاہور ہائیکورٹ نے قصور میں عدلیہ مخالف تقاریر کیس کے گواہان کو شہادتوں کیلئے 29 مئی اور وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو 30 مئی کو طلب کر لیا

جمعرات مئی 16:31

لاہور ہائیکورٹ نے قصور میں عدلیہ مخالف تقاریر کیس کے گواہان کو شہادتوں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے قصور میں عدلیہ مخالف تقاریر کے مقدمہ میں نامزد ایم این اے وسیم اختر ، ایم پی اے نعیم صفدر سمیت چار ملزمان کے خلاف دائر توہین عدالت کیس میں گواہوں کو شہادتوں کیلئے 29 مئی جبکہ وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کو 30 مئی کو طلب کر لیا۔ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔

نامزد ملزمان ایم این اے وسیم اختر ، ایم پی اے نعیم صفدر، چیئرمین بلدیہ قصور ایاز خان، وائس چیئرمین احمد لطیف کے وکلاء پیش ہوئے۔ دوران سماعت ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں سی ڈیز اور متعلقہ مواد فراہم کیا جائے، عدالت نے عدالتی عملے کو واقعہ کی سی ڈیز آج کی تاریخ میں ہی ملزمان کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

(جاری ہے)

دوملزمان ناصر خان اور جمیل خان نے غیر مشروط تحریری معافی نامہ عدالت میں پیش کر دیا۔

عدالت کے استفسار پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے آگاہ کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعوی عرب گئے ہیں، آئندہ سماعت پر وہ پیش ہو جائیں گے۔ عدالت نے احسن اقبال کو30 مئی کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی اور قصور واقعہ میں جاری توہین عدالت کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر گواہوں کو شہادتوں کے لئے طلب کر لیا۔