سپریم کورٹ نے ملٹری اکائونٹنٹ جنرل آفس میں تعینات کلرک نسیم احمد کو واجبات کی عدم ادائیگی کے حوالے سے مقدمہ میں تحریری جواب طلب کرلیا

جمعرات مئی 23:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے ملٹری اکائونٹنٹ جنرل آفس میں تعینات کلرک نسیم احمد کو واجبات کی عدم ادائیگی کے حوالے سے مقدمہ میں تحریری جواب طلب کرلیا ۔جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملٹری اکائونٹنٹ جنرل آفس میں تعینات کلرک نسیم احمد کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کی تو عدالتی استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نسیم احمد نے پانچ ماہ کام کیااسے انیس سال کی تنخواہ کیسے دیں،دوسری جانب اس شخص پر فوجی افسر کے نام سے جعلی پاسپورٹ بنانے کا الزام ہے، جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیاکہ کیا فوجی جنرل کے نام کا جعلی پاسپورٹ بنایا تھا اس دوران کلرک نسیم احمد نے اعتراف کیاکہ اس نے جعلی پاسپورٹ بطور کیپٹن بنوایا تھا، جسٹس گلزار احمد نے اس سے کہاکہ آپ نے ہلکا کام کیوں کیا جعلی پاسپورٹ بنوانا ہی تھا تو کسی جنرل کے عہدے کا بنواتے،۔

(جاری ہے)

نسیم احمد کا کہنا تھا کہ جعلی پاسپورٹ کا الزام جھوٹا ہے،میں فوجی نہیں سول ملازم تھا ، اس پر جسٹس قاضی فائزعیسی نے سوال اٹھایاکہ آپ فوج میں نہیں تھے تو پاسپورٹ کیا فرشتوں نے بنوا دیا کیا آپ کبھی آئی ایس آئی میں ملازم رہی نسیم احمد کا کہنا تھا کہ وہ آئی ایس آئی میں کنٹریکٹ پر خصوصی ایجنٹ بھرتی ہوئے ،اس پر جسٹس گلزاراحمد کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں ایسے کتنے لوگ مزید ہونگے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ آئی ایس آئی کو ٹیکس فنڈ سے پیسہ دیا جاتا ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ۔ بعد ازاں عدالت نے سرکاری وکیل کوہدایت کی کہ اس معاملہ میں آئی ایس آئی سے موقف معلوم کرکے آگاہ کریں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔