فیصل آباد، سیمنٹ مینوفیکچررانڈسٹری نے بھی رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں سیمنٹ کی قیمت میں500 روپئے ٹن کا اضافہ کردیا

ہفتہ مئی 19:56

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2018ء) سیمنٹ مینوفیکچررانڈسٹری نے بھی رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں سیمنٹ کی قیمت میں500 روپئے ٹن کا اضافہ کردیا،فی بوری قیمت 25 روپئے بڑھ گئی،کارٹل بنا کر ملک بھر کی سیمنٹ فیکٹریوں کی پیداوار 55 فیصد کر کے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کردی گئی،چھوٹے دکاندار اور صارفین پریشان،ڈیلرز کو ایکسٹرا ری بیٹ کی مد میں عیدی دینا شروع کردی گئی،حکومت کی طرف سے ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کے باعث قیمتیں بڑھائی گئیں،سیکرٹری APCMA شہزاد احمد کا موقف،آن لائن کے مطابق آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررایسوسی ایشن(APCMA ) کی طرف سے ایک بار پھر کارٹل بنا کر مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوئے ملک بھر کی 30 کے قریب سیمنٹ فیکٹریوں نے اپنی پیداوارکو 55 فیصد تک محدودکر کے قیمت میں 500روپئے ٹن اضافہ کردیا ہے جس سے مارکیٹ میں ہول سیل قیمت فی بوری 520 روپئے سے بڑھ کر 545/50 تک ہوگئی ہے،رمضان سے قبل نئے مالی سال کے بجٹ کے بعد بھی قیمتوں میں 25 روپئے اضافہ کیا گیا تھا اور اب پھر APCMA نے کارٹل بناتے ہوئے کوٹہ سسٹم بحال کر کے تمام سیمنٹ فیکٹریوں کو اپنی پیداواری صلاحیت کی55 فیصد تک ڈسپیچ کرنے پر محدود کردیا ہے اس سے جہاں ایک طرف مارکیٹ میں سیمنٹ کی مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے اور دوسری طرف قیمتوں میں اضافے کا رجحان پیدا ہورہا ہے ،مارکیٹ میں عام سیمنٹ برانڈ کی ہول سیل قیمت 545/50 تک اور پریمئم برانڈ 560 تک جاپہنچے ہیں، مارکیٹ اور سیمنٹ فیکٹریز مارکیٹنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی صورت حال کے تحت یکم جولائی تک قیمتوں کو 580 تا590 روپئے فی بوری تک لے جایا جائے گا جو ملکی تاریخ میں سیمنٹ کی بلند ترین قیمتیں ہوں گی۔

(جاری ہے)

اس صورت حال میں چھوٹے دوکاندار اور عام صارفین تو پریشان ہیں مگر فیکٹریوںسے منسلک ڈیلرز مطمئن ہیں کیونکہ سیمنٹ فیکٹریوں کا مارکیٹنگ سٹاف ہر ڈیلر کو حصہ بقدر جثہ کے مصداق بڑھا چڑھا کر ری بیٹ دے رہے ہیں اور ڈیلرز کو کہا جارہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بکنگ کروا کر زیادہ سے زیادہ عیدی ری بیٹ کی مد میں حاصل کریں۔صارفین نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سیمنٹ فیکٹری مالکان کو قیمتوں پر کنٹرول کرنے کا پابند کیا جائے کیونکہ سیمنٹ کے بڑے پلانٹس کے باعث خرچے کم ہو چکے ہیں اور 250 سے 275 روپئے میں تیار ہونے والی بوری پر فیکٹری مالکان کا بے انتہامنافع کما رہے ہیں۔

اس حوالہ سے سیکرٹری APCMA شہزاد احمد کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کے باعث قیمتیں بڑھائی گئی ہیں