جڑواں شہروں میں عوامی ہاسٹلوں کی کمی ، حصول تعلیم اورروزگارکیلئے باہر سے آنیوالے لوگوں کو رہائشی سہولیات میں مشکلات کاسامنا

اتوار مئی 16:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) جڑواں شہروں میں عوامی ہاسٹلوں میں کمی کی وجہ سے حصول تعلیم اورروزگارکیلئے باہر سے آنیوالے لوگوں کو رہائشی سہولیات میں مشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے۔ تعلیمی اداروں میں موجودہاسٹلوں میں گنجائش اور سہولیات میں کمی کی وجہ سے طالب علموں اورروزگارکیلئے مقیم افراد کیلئے نجی ہاسٹلوں میں مہنگے اخراجات کی ادائیگی کے سواء کوئی دوسرامتبادل موجودنہیں۔

یہ ہاسٹلززیادہ تر نجی وکمرشل عمارات میں قائم ہیں جن کیلئے ضوابط کا خیال بھی نہیں رکھا جارہا۔ ایک طالب علم اشتیاق خٹک نے اے پی پی کو بتایا کہ وہ جس نجی ہاسٹل میں مقیم ہیں وہاں پرحفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانافراہم نہیں کیاجارہا، اس کے علاوہ کمروں اورباتھ رومز کی صٖفائی کی صورتحال بھی ناقص ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ناشتے اورلانڈری کیلئے انہیں علیحدہ سے ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت نجی ہاسٹلوں کے اخراجات بہت زیادہ اورعام آدمی کی قوت خرید سے تجاوزکررہے ہیں۔ اس وقت ان ہاسٹلوں کے مالکان مشترکہ کمرے میں فی بیڈ 7ہزارروپے سے لیکر10ہزارروپے تک وصول کررہے ہیں۔ ایک اورطالب علم کے مطابق جڑواں شہروں کے بیشترتعلیمی اداروں میں طلباء وطالبات کیلئے رہائشی سہولیات کافقدان ہے، جن اداروں میں ہاسٹلزموجودہیں وہاں پرگنجائش کم ہے اسلئے طلباء وطالبات کونجی ہاسٹلوں میں جانا پڑرہاہے،انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کے تناظرمیں نجی ہاسٹلوں کے حوالے سے قواعد وضوابط وقت کا تقاضاہے۔انہوں نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اپناکرداراداکرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ عنوان :