آزاد جموں وکشمیر قانون سازاسمبلی نے مالی سال2018-19کا 1کھرب 8ارب 20کروڑ روپے کاریکارڈ بجٹ اتفاق رائے سے منظور کر لیا

ایوان نے رواں مالی سال 2018-19کیلئے غیرترقیاتی میزانیہ82ارب70کروڑ روپے اور ترقیاتی میزانیہ25ارب50کروڑ روپے کی بھی منظوری دیدی

اتوار مئی 23:30

مظفر آباد۔27 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی2018ء) آزاد جموں وکشمیر قانون سازاسمبلی نے مالی سال2018-19کا 1کھرب 8ارب 20کروڑ روپے کاریکارڈ بجٹ اتفاق رائے سے منظور کر لیا ۔ ایوان نے رواں مالی سال 2018-19کیلئے غیرترقیاتی میزانیہ82ارب70کروڑ روپے جبکہ ترقیاتی میزانیہ25ارب50کروڑ روپے کی بھی منظوری دی۔ نظرثانی میزانیہ2017-18کیلئے غیر ترقیاتی میزانیہ 73ارب روپے جبکہ ترقیاتی نظرثانی میزانیہ23ارب 28کروڑ روپے (کل96ارب28کروڑ روپی)کی منظور ی دی گئی ۔

قبل ازیں اجلاس کے دوران 2017-18کے ضمنی میزانیہ کیلئے مطالبات زر کی31تحریک ہا ء جبکہ جاریہ تخمینہ میزانیہ2018-19کے مطالبات زر کی 32تحریک ہا بحث کے بعد ایوان نے منظور کر دی گئیں۔ دریں اثناء ایوان نے مالی سال 2005-6تا 2014-15کی مختلف مطالبات زر کی بھی منظور دی گئی۔

(جاری ہے)

جبکہ ایوان نے 2005-6تا2014-15کے غیر ترقیاتی و ترقیاتی زائد میزانیہ رقمی 3ارب66کروڑ18لاکھ95ہزار1صد56پیسے کی بھی منظوری دی گئی ۔

گزشتہ روز اجلاس میں وزیر اعظم سمیت اپوزیشن بھی موجود رہی ۔ ماحول انتہائی خوشگوار رہا ۔ آخری روز خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ وفاقی محصولات میں شیئر کے اضافے سے ذمہ داریان بڑھ گئی ہیں ،کفایت شعاری اپنانی ہوگی۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے کفایت شعاری کا عملی ثبوت دیا اور2015-16کے بجٹ سے بھی موجودہ مالی سال کا بجٹ کم ہے ۔

وزیر اعظم نے کہاکہ آزادکشمیر کے اندر عوام کو سہولیات فراہم کرنے اور مفاد عامہ کیلئے اقدامات اٹھانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔2018-19کا بجٹ ایک تاریخ ساز بجٹ ہے ، عوامی ضروریات اور مساویانہ بنیادوں پر ترقیاتی منصوبہ جات شروع کیے گئے ہیں جبکہ سابق ادوار کے منصوبہ جات کو بھی مکمل کیا گیا ۔ سروسز کے ڈھانچے میں خرابی کے باعث اہل لوگ اوپر کم آرہے ہیں ۔

گریڈ 20کا ہر آدمی سیکرٹری نہیں لگ سکتا ۔ وزرا ء کے بعد محکمہ جات کے اندر ذمہ دار ترین آسامی سیکرٹری کی ہوتی ہے ۔ یہاں ترقابیوں میں بھی تفاوت ہے جسے دور کرینگے۔ آزادکشمیر کو مالیاتی خودمختاری کے بعد عبوری ایکٹ74میں ترمیم ، واٹر یوزز چارجز پر ہمارا موقف تسلیم کرنا 1سال8ماہ کی محنت کا نتیجہ ہے ۔ آخر میں اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

متعلقہ عنوان :