ْگلگت بلتستان آڈر 2018ء نے عبوری آئین کی تشکیل اور عبوری صوبے کی راہ ہموار کر دی ،شمس میر

پیر مئی 13:30

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) مشیر اطلاعات بلتستان شمس میرنے کہا ہے کہ یہاں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب وزیر اعظم پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کو انکی سر زمین پر انتقال اختیارات کے سنہرے نظام کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018نے گلگت بلتستان کے عبوری آئین کی تشکیل اور عبوری صوبے کی راہ ہموار کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب گلگت بلتستان کے عوام اصلاحات آرڈر 2018کے تحت قومی اسمبلی اور سینٹ میں براجمان ہو ںگے‘آرڈر 2018کے تحت گلگت بلتستان کے خصوصی سٹیٹس ،اختیارات اور مراعات سے علاقہ تیز ترین معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرے گا وہاں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے اور مقامی آئینی نظام کے حصول کے لئے گلگت بلتستان اسمبلی قانون سازی کے براہ راست اختیارات کے تحت علاقے کے مستقبل کے لئے آئینی راہ ہموار ہو گئی ہے‘یہاں میڈیا سے گفتگو سے مشیر اطلاعات شمس میر نے گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ وفاق اور گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ )ن( کی حکومتوں نے منفرد کام کیا ہے۔

(جاری ہے)

گلگت بلتستان کے عوام کو معلوم ہو نا چاہیے کہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لئے مثالی وسائل فراہم کیے ہیں ۔انہی وسائل سے آج گلگت سکردو روڈ جیسے عظیم منصوبے کا آغاز ہوا ہے۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کے ایک سنہری دور کاآغاز کیا ہے مشیر اطلاعات نے کہا کہ آج وفاقی حکومت نے ملک کی تاریخ میں سنہرے فیصلے کیے ہیں جن میں فاٹا ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لئے سیاسی اصلاحات کیں ان اصلاحات میں سب سے طاقتور ،بااختیار اور مراعات سے آراستہ سیٹ اپ گلگت بلتستان کو دیا گیا ہے جس کاآغاز گلگت بلتستان سے ٹیکس سسٹم کے خاتمے کے ساتھ ہو گیا ہے۔

مشیر اطلاعات نے کہا ہے کہ نظام کو علاقے اور عوام کے مفاد میں دیکھنا چاہیے نہ کہ چند لوگوں کے عزائم کی روشنی میں ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018میں علاقے اور عوام کے دور رس مفادات کی ضمانت موجود ہیں ۔